
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو 60 دن مکمل ہونے کے باوجود کانگریس کی جانب سے کوئی واضح اقدام سامنے نہیں آیا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی کے باعث قانونی مدت کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ایران جنگ کے 60 دن مکمل ہونے پر امریکی قانون کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کانگریس سے منظوری درکار ہے، تاہم ریپبلکن ارکان تاحال کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے اور معاملہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔
1973 کے وار پاورز ایکٹ کے مطابق صدر کو 60 دن کے اندر جنگ ختم کرنا یا کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے، بصورت دیگر کارروائی غیر قانونی تصور کی جا سکتی ہے۔ یہ مدت یکم مئی کو مکمل ہو گئی، مگر کانگریس نے اس قانون پر عمل درآمد کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
ریپبلکن قیادت، بشمول سینیٹ اکثریتی رہنما جان تھون، نے واضح کیا ہے کہ فی الحال ایران کے خلاف جنگ کی منظوری کے لیے ووٹنگ کا کوئی ارادہ نہیں۔ تاہم چند ارکان، جیسے لیزا مرکاؤسکی اور سوسن کولنز، نے عندیہ دیا ہے کہ کانگریس کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد جنگی صورتحال عملاً ختم ہو چکی ہے، اس لیے 60 دن کی قانونی حد لاگو نہیں ہوتی۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مطابق جنگ بندی کے دوران یہ ”گھڑی رک جاتی ہے“۔
تاہم ڈیموکریٹ ارکان نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی سرگرمیاں جاری ہیں، اس لیے قانون کے تحت مدت ختم ہو چکی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق کانگریس کی خاموشی اور انتظامیہ کے مؤقف نے صورتحال کو آئینی اور سیاسی بحران میں بدل دیا ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔


















