دہلی پولیس نے پاکستان کیخلاف ایک اور بلاک بسٹر مصالحہ فلم کا اسکرپٹ لانچ کر دیا

دہلی پولیس نے پاکستان کیخلاف ایک اور بلاک بسٹر مصالحہ فلم کا اسکرپٹ لانچ کر دیا

ویب ڈیسک: دہلی  پولیس نے ایک اور ” بلاک بسٹر مصالحہ فلم”  کا اسکرپٹ لانچ کر دیا ۔ فلمی اسکرپٹ میں  پاکستان کے ساتھ نیپال کو بھی بطور مہمان اداکار شامل کر لیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے ایک بار پھر پاکستان کی معاونت سے قائم تخریب کار گینگ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دہلی پولیس نے پاکستان کے ساتھ نیپال کو بھی بھارت میں دہشت گردی کی پلاننگ میں شامل کر دیا۔ دہلی پولیس نے نو بھارتی شہریوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بھارتی شہری پاکستانی ایجنسیوں سے پیسے لیکر بھارت میں دہشت گردی کرنے کے پلاننگ کر رہے تھے۔

دہلی پولیس نے پاکستان کیخلاف ایک اور بلاک بسٹر مصالحہ فلم کا اسکرپٹ لانچ کر دیا

بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتار شہریوں میں نچلی ذات کے ہندو، سکھ اور مسلمان شامل ہیں۔  نیپالی ہندو کو ملزموں کی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ دہلی پولیس نے چار پاکستانی ساختہ گرنیڈز، دو پستول اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا۔ دہلی  پولیس کے مطابق ان ملزمان کو پاکستان سے ہدایات مل رہی تھیں۔ یہ ملزمان ممبئی اور دہلی میں دھماکے کی پلاننگ میں شامل تھے۔ دہلی پولیس اپنے دعویٰ کے ساتھ کوی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکی۔

سیاسی ماہرین کے مطابق مودی میڈیا نے ثبوت مانگنے کی بجائے پاکستان میں تیار کردہ بین الاقوامی سازشُ کا راگ الاپنا شروع کر دیا۔   حسب روایت مسلمان ، سکھ اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو ملزمان کے طور پر پیش کیا گیا۔ نیپالی شہری کی گرفتاری نیپال کو دباؤ میں لینے کی کوشش ہے۔ بھارت اور نیپال میں آبی اور سرحدی تنازعات باہمی تلخی کی بڑی وجہ ہیں۔ بھارت نیپال سے سفارتی شرمندگی کا بدلہ بھی  لینا چاہتا ہے۔ نیپالی وزیر اعظم نے ۱۳ مئی کو بھارتی خارجہ سیکرٹری وکرم مصری کو ملنے سے انکار کر دیا تھا۔بھارتی سیکرٹری خارجہ کو بارہا درخواستوں کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ ملی

سیاسی ماہرین کے مطابق  تاریخی سفارتی شرمندگی پر بھارت نے نیپال کو دہشت گردی کی معاونت کرنے والے ممالک میں شامل کر دیا ہے۔ بھارتی حکام اپنی نااہلی کو پاکستان مخالف جذبات کے نیچے چھپاتے ہیں۔ بھارتی حکومت کو دوسرے ممالک  پر الزام تراشی کی بجائے اپنے سیکورٹی اداروں کی جواب طلبی کرنا چاہیے۔ بی جے پی کو حکومتی پالیسیوں کے خلاف اقلیتوں میں بڑھتی نفرت پر غور کرنا چاہیے۔

بھارت میں مذہبی انتہا پسندی نے معاشرے کو ہندو اور غیر ہندو گروپس میں تقسیم کر دیا ہے۔ جیسے ہی  بھارتی عوام مہنگائی، بے روزگاری یا داخلی مسائل پر سوال اٹھائیں، فوراً ایک نیا سکیورٹی تھرلر ریلیز کر دیا جاتا ہے۔ بھارتی مضحکہ خیز دعوؤں کو اب عالمی سطح پر سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *