ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے کی خبروں پر تہران کا ردعمل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے کی خبروں پر تہران کا ردعمل

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے کی خبروں پر تہران کا ردعمل

ویب ڈیسک: امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے مبینہ طور پر اپنے اختیارات محدود ہونے کے باعث استعفے کی درخواست دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر پزشکیان نے ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر کو آگاہ کیا کہ انہیں اہم ریاستی فیصلوں کے عمل سے دور رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

بعض غیر مصدقہ اطلاعات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اور دیگر سخت گیر حلقوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث منتخب حکومت کا کردار محدود ہو گیا ہے، جس سے صدر اور ان کی کابینہ اہم پالیسی فیصلوں میں نسبتاً کم کردار ادا کر رہے ہیں۔

تاہم ایرانی حکام نے ان خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ صدارتی دفتر کے عہدیداروں اور پاسدارانِ انقلاب سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان نے نہ تو استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست پیش کی ہے۔ ان کے مطابق صدر بدستور اپنے آئینی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی مختلف کوششیں جاری ہیں، جبکہ ملک کے اندر مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔

ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال صدر مسعود پزشکیان کے استعفے سے متعلق کسی سرکاری اقدام یا فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *