
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اعلیٰ قیادت کے وفد نے ملاقات کی، جس میں آئندہ وفاقی بجٹ، معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے وزیراعظم کو آئندہ بجٹ اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ایف بی آر کو سخت ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ 15 جون تک ٹیکس ریفنڈز کے تمام زیر التوا کیسز ہر صورت نمٹائے جائیں تاکہ کاروباری برادری کو درپیش مالی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل محنت اور مؤثر پالیسیوں کے نتیجے میں ملکی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی حکومت کا بنیادی مشن ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پالیسی ریٹ میں حالیہ اضافے کے باوجود ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کی شرح جون 2027 تک 4.5 فیصد پر برقرار رکھی جائے گی، جو برآمد کنندگان کے لیے خوش آئند ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کاروباری برادری کی سہولت کے لیے اہم انتظامی فیصلے کرتے ہوئے “پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل)” کا مرکزی دفتر کراچی منتقل کرنے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی درخواست پر گجرات میں پاسپورٹ آفس قائم کرنے کی فوری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ جوائنٹ وینچرز کے ذریعے ملک میں الیکٹرک وہیکلز کی مقامی پیداوار کو فروغ دیں۔
وفد کے شرکاء نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے خطے میں امن اور خلیجی ممالک کی کشیدہ صورتحال میں مثبت کردار ادا کرنے کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ تاجر برادری نے پی آئی اے کی نجکاری، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ’’وزیراعظم اپنا گھر پروگرام‘‘ کے تحت آسان قرضوں کے اجرا کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ گرے اکانومی کو باقاعدہ معیشت میں لانے کے لیے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے۔


















