
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ایران جنگ کے بعد پہلی بار کانگریس میں پیش ہوئے، جہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 1.5 ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ کی حمایت کرتے ہوئے اسے موجودہ حالات کی فوری ضرورت قرار دیا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کانگریس میں قانون سازوں کے سخت سوالات کا سامنا کیا، جہاں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 1.5 ٹریلین ڈالر دفاعی بجٹ کا دفاع کیا۔ یہ سماعت ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی بار ہوئی ہے جب ہیگستھ نے قانون سازوں کے سامنے دفاعی پالیسی اور بجٹ کے حوالے سے وضاحت دی۔
ہیگستھ نے کہا کہ وہ اس موقع پر پیش ہو کر خوش ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کے بجٹ کی حمایت کرتے ہیں، جو مالی سال 2027 کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کا بجٹ موجودہ وقت کی سنگینی اور فوری ضرورت کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ عالمی سطح پر سیکیورٹی صورتِ حال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
ہیگستھ نے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے دفاعی صنعتی نظام کو دوبارہ جنگی سطح کی تیاری پرلا رہا ہے تاکہ کسی بھی بڑے خطرے کا فوری جواب دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں دفاعی صنعت کو تیزی سے مضبوط بنانا ضروری ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں۔
سماعت کے دوران قانون سازوں نے دفاعی اخراجات اور امریکا کی جنگی حکمت عملی پر سوالات بھی اٹھائے، تاہم ہیگستھ نے انتظامیہ کے مؤقف کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران سے متعلق سوالات پر بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں اور توقع ہے کہ یہ موضوع آج کی سماعت میں بھی زیر بحث آئے گا۔
ہیگستھ نے صدر ٹرمپ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے لیے دنیا کے بہترین مذاکرات کار کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس میں بعض ڈیموکریٹ اراکین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا کو سب سے بڑا خطرہ مجرمانہ، کمزور اور مایوس کن بیانات دینے والے ڈیموکریٹس سے ہے۔


















