جنیوا: امریکا، ایران جوہری مذاکرات، آبنائے ہرمز جزوی بند

جنیوا: امریکا، ایران جوہری مذاکرات، آبنائے ہرمز جزوی بند

جنیوا: امریکا، ایران جوہری مذاکرات، آبنائے ہرمز جزوی بند

ایران اور امریکا نے جنیوا میں دوسرے دور کے جوہری مذاکرات میں بنیادی اصولوں پر اتفاق کیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت فوری معاہدے کا مطلب نہیں ہے، مگر بات چیت کا راستہ کھل گیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ ایران اور امریکا نے جنیوا میں دوسرے دور کے جوہری مذاکرات میں بنیادی گائیڈنگ پرنسپلز پر اصولی سمجھوتہ کیا ہے، تاہم اس پر مزید کام باقی ہے۔

یہ بیان انہوں نے مذاکرات کے اختتام کے بعد ایرانی میڈیا کو دیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ یہ پیش رفت فوری معاہدے کی ضمانت نہیں دیتی، لیکن مذاکرات کا راستہ شروع ہو گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آبنائے ہرمز کے کچھ حصے عارضی طور پر بند کیے، یہ اقدام پاسدارانِ انقلاب کی فوجی مشقوں کے باعث کیا گیا۔

ادھر، امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے تاکہ تہران پر مذاکرات میں رعایت کرنے کا دباؤ ڈالے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران میں رجیم چینج بہترین نتیجہ ہو سکتا ہے، جس پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جواب میں کہا تھا کہ امریکا کی حکومت کو ہٹانے کی کوشش ناکام ہوگی۔

جنیوا میں مذاکرات میں عمان نے ثالثی کی، جب کہ امریکا کی طرف سے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اور ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک تھے۔ ملاقات اقوام متحدہ میں عمانی سفیر کی رہائش گاہ پر سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت ہوئی۔

ایران ماضی میں بھی خبردار کر چکا ہے کہ حملے کی صورت میں وہ آبنائے ہرمز کو بند کر سکتا ہے، جس سے عالمی تیل رسد کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہو سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

رائٹرز کے مطابق دو امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ اگر صدر ٹرمپ حکم دیتے ہیں تو امریکی فوج ایران کے خلاف کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری مسئلے، پابندیوں کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ مفاہمت کے خدوخال سے متعلق ایران کا مؤقف امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے۔

ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ مذاکرات کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ امریکا غیر حقیقی مطالبات سے گریز کرے اور سخت معاشی پابندیاں اٹھانے میں سنجیدگی دکھائے۔

یاد رہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کے درمیان گذشتہ روز اہم ملاقات بھی ہوئی۔

ملاقات کے دوران ایران کے حفاظتی معاہدوں (سیف گارڈز) کے دائرہ کار اور ایرانی پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے مطابق ایران اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون سے متعلق متعدد تکنیکی امور زیر بحث آئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس جون میں مذاکرات کا ایک دور اس وقت تعطل کا شکار ہوگیا تھا جب اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کیے اور بعد ازاں امریکا بھی ان حملوں میں شامل ہوا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اس کے بعد اس نے یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں روک دی ہیں، تاہم وہ مکمل طور پر افزودگی ترک کرنے یا اپنے میزائل پروگرام پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *