
انگور اڈہ میں بزدلانہ حملہ، معصوم بچے بھی نشانہ بنے؛ افغان رجیم اور خوارج کا گٹھ جوڑ بے گناہ عوام کے لیے خطرہ بن گیا
جنوبی وزیرستان: افغان طالبان رجیم کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں سول آبادی پر بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ 29 اپریل کو سرحد پار سے کی جانے والی اس بلا اشتعال گولہ باری نے سرحدی علاقوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والے ایک مقامی شہری نے لرزتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ان کا پورا گھر لرز اٹھا اور دیواروں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے گولے براہِ راست مکانات پر گرے، جس کی زد میں آ کر بچے اور خواتین بھی زخمی ہوئیں۔
سکیورٹی ذرائع اور عوامی حلقوں کے مطابق افغان طالبان اور ان کے زیرِ سایہ پنپنے والے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے لیے پاکستانی شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ حالیہ حملوں کا رخ دانستہ طور پر شہری آبادیوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے تاکہ علاقے میں عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
سرحد پار سے مسلسل ہونے والی اس جارحیت کی وجہ سے مقامی آبادی شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔


















