
مغربی افریقا کے ملک بینن میں فوجی دستے نے سرکاری ٹی وی سے اچانک حکومت کے خاتمے اور صدر پیٹریس ٹیلن کی برطرفی کا اعلان کردیا۔ فوجی بغاوت کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل پاسکل ٹیگری کر رہے ہیں، جنہیں ’ملٹری کمیٹی فار ری فاؤنڈیشن‘ کا سربراہ قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ترجمان کے مطابق صدر محفوظ ہیں اور فوج کے حمایت یافتہ دستے صورتحال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بینن کی سرکاری نشریاتی سروس پر اتوار کے روز فوجی اہلکاروں کے ایک دستے نے اعلان کیا کہ صدر پیٹریس ٹیلن کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہے اور فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور تمام زمینی سرحدوں کے ساتھ ساتھ فضائی حدود بھی اگلے اعلان تک بند رہے گی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق یہ اقدام مغربی افریقا میں حالیہ برسوں کے دوران سامنے آنے والی متعدد بغاوتوں میں ایک اور اضافہ ہے۔ بغاوت کرنے والے گروہ نے خود کو ’ملٹری کمیٹی فار ری فاؤنڈیشن‘ کے نام سے متعارف کرایا اور صدر کو برطرف اور تمام ریاستی اداروں کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فوج نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ لیفٹیننٹ کرنل ٹیگری پاسکل فوجی عبوری کونسل کے سربراہ ہوں گے، جو ملک کا انتظام سنبھالیں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب حکومتی ترجمان ولفریڈ ہونگبیڈی نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں بتایا کہ ‘سب کچھ ٹھیک ہے’، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں دیں۔ صدر کے دفتر کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ‘وہ محفوظ ہیں اور فوج کے حمایت یافتہ دستے صورتحال پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں’۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بغاوت کا آغاز صبح سویرے اس وقت ہوا جب مسلح اہلکاروں نے صدر ٹیلن کی سرکاری رہائش گاہ کو حصار میں لے لیا۔ دارالحکومت کے علاقے میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
صدر پیٹریس ٹیلن 2016 سے اقتدار میں تھے اور آئندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد عہدہ چھوڑنے والے تھے۔ انتخابات میں ان کی جماعت کے امیدوار اور سابق وزیرِ خزانہ رومیالڈ واداگنی کو فیورٹ تصور کیا جا رہا تھا۔
انہیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آمرانہ طرزِ حکمرانی اور سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے عدالتی نظام کو استعمال کرنے کے الزامات کا سامنا بھی رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کے امیدوار رینوڈ اگبوڈجو کی نامزدگی الیکٹورل کمیشن نے یہ کہہ کر مسترد کر دی تھی کہ ان کے پاس انتخاب لڑنے کے لیے درکار اسپانسرز کی مطلوبہ تعداد موجود نہیں۔
گزشتہ ماہ بینن کی پارلیمنٹ نے صدراتی مدتِ میں ترمیم کی منظوری دیتے ہوئے پانچ سال کی مدت کو بڑھا کر سات سال کر دیا تھا، تاہم اس عہدے کے لیے دو مدت کی حد ہی برقرار رکھی گئی تھی۔
بینن میں یہ بغاوت اس وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں سیاسی عدم استحکام میں پہلے ہی اضافہ ہو رہا ہے۔ رواں سال مڈگاسکر میں بھی فوج نے جین زی کے احتجاج کے بعد ملک میں حالات خراب ہونے پر اقتدار سنبھال لیا تھا۔
اکتوبر میں مڈگاسکر کے صدر اینڈری راجوئلینا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔ یہ اقدام کئی ہفتوں سے جاری نوجوانوں کی حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے بعد سامنے آیا تھا، جس نے ملک کو شدید سیاسی بحران سے دو چار کر دیا تھا۔
مغربی افریقی ملک گنی بساؤ میں بھی گزشتہ ماہ فوج نے سابق صدر عمرو ایمبالو کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا، جہاں معزول صدر اور اپوزیشن امیدوار دونوں کی جانب سے انتخابات میں فتح کے دعوے کیے جارہے تھے۔
گنی بساؤ میں فوج نے اعلان کیا کہ صدر عمرو ایمبالو کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے اگلے ہی روز جنرل ہورتا انٹا نے عبوری صدر کے طور پر اقتدار سنبھال لیا۔ یہ اقدام اس وقت ہوا جب ملک کے صدارتی انتخابات کے عبوری نتائج کے اعلان سے صرف ایک روز قبل سیاسی ماحول انتہائی کشیدہ تھا۔


















