
ویب ڈیسک: سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا ہے کہ ہم اپنے فیصلے آئین اور قانون کی روشنی میں کرتے ہیں، جب کہ حقیقی انصاف صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔
قومی کمیشن برائے صنعتی تعلقات (NIRC) کی جانب سے یومِ مزدور کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ہمیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی دباؤ یا خوف کا شکار ہوئے بغیر صرف آئینی اور قانونی اصولوں کو مدِنظر رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا، “آپ مزدور ہیں، میں جج ہوں، ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ انصاف دینا اللہ کا کام ہے، ہم قانون کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں۔”
جسٹس مندوخیل کا کہنا تھا کہ حلف کے الفاظ پڑھ کر خوف محسوس ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین میں یونین سازی سمیت ہر شہری کے بنیادی حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے، اور انہی اصولوں کی روشنی میں عدالتی فیصلے کیے جاتے ہیں۔
تقریب میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ انہیں 4 دسمبر 2024 کو NIRC کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعتراف کیا کہ مزدوروں کے حقوق اور صنعتی ترقی کے لیے این آئی آر سی کا کردار بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) نے بھی اس مشن میں بھرپور تعاون کیا۔
سپریم کورٹ کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ خان نے خطاب میں کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی نیکی انصاف ہے۔ “قرآن اور انبیاء کرام بھی دنیا میں انسانوں کو عدل و انصاف کے قیام کے لیے بھیجے گئے۔ ہمارے آئین میں بھی سوشل جسٹس کا تصور واضح ہے۔”
انہوں نے کہا کہ محنت کش سب سے زیادہ محنت کرتے ہیں، مگر ان کے حقوق کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ معاشرے میں امن، صلہ رحمی اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Source link


















