
اسلام آباد:ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کے فوراً بعد پاکستان پر الزام تراشی افسوسناک اور حقائق کے منافی ہے، اور پاکستان اس معاملے میں الزامات نہیں بلکہ شواہد اور حقائق کی بنیاد پر بات کرے گا۔
اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر الزام یہ ہے کہ پاکستانی سرزمین سے دہشتگرد آکر حملہ کر گئے تو یہ جان لینا چاہیے کہ پہلگام کا مقام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے، جب کہ جائے وقوع سے قریبی تھانے تک پہنچنے میں کم از کم 30 منٹ درکار ہوتے ہیں۔پھر ایف آئی آر میں یہ کیسے ممکن ہوا کہ پولیس محض 10 منٹ میں جائے وقوع پر پہنچ گئی، کارروائی کی اور واپسی پر رپورٹ بھی درج ہوگئی؟ یہ سب کچھ اس بات کا اشارہ ہے کہ واقعہ پہلے سے تیار شدہ منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے بھارتی میڈیا کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ حملہ مسلمانوں نے ہندو یاتریوں پر کیا۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ حملہ مذہبی بنیاد پر کیا گیا، بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہے۔
“ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ نہ مسلم دہشتگرد ہوتے ہیں، نہ ہندو، نہ عیسائی، دہشتگرد صرف دہشتگرد ہوتا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران پہلگام حملے میں شہید ہونے والے ایک مسلمان شخص کے بھائی کی ویڈیو بھی دکھائی، جس میں اس نے بتایا کہ اس کا بھائی اس واقعے میں جاں بحق ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ واقعے کے صرف چند منٹ بعد ہی بھارتی ایجنسیوں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر دیا، اور بعد ازاں بھارتی الیکٹرانک میڈیا نے بھی یہی مؤقف اختیار کرلیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہی اکاؤنٹس ماضی میں کراچی، میانوالی اور جعفر ایکسپریس حملوں سے قبل بھی “پیشگی اعلانات” کرتے رہے ہیں۔”میانوالی حملے سے ایک دن قبل ٹویٹ کیا گیا ‘کل بڑا دن ہے’، اور حملے کے بعد کہا گیا ‘ویلکم میانوالی’۔ اسی طرح کراچی میں چینی باشندوں پر حملے سے قبل بھی سوشل میڈیا پر پیشگی پیغامات جاری ہوئے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حملے محض اتفاقیہ نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا حصہ ہوتے ہیں،” ترجمان نے کہا۔
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پہلگام واقعے کے تناظر میں بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی میڈیا اور ریاستی اداروں کی جانب سے جاری بے بنیاد الزامات، مذہبی نفرت انگیزی اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم کا نوٹس لے۔
“ان کاکہنا تھا کہ ہماری پوزیشن واضح ہے، ہم ذمہ دار ریاست ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف ہماری قربانیاں بے مثال ہیں، اور ہم کسی بھی حملے کو مذہب یا قومیت سے جوڑنے کو غیر اخلاقی اور خطرناک سمجھتے ہیں۔


















