پولیس کی چارج شیٹ میں نئے انکشافات

پولیس کی چارج شیٹ میں نئے انکشافات

پولیس کی چارج شیٹ میں نئے انکشافات

ویب ڈیسک: معروف بالی وڈ اداکار سیف علی خان پر رواں برس جنوری میں ہونے والے حملے سے متعلق تحقیقات میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔

ممبئی پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی ایک ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ جائے وقوع سے حاصل کیے گئے 20 فنگر پرنٹس میں سے صرف ایک پرنٹ حملے کے مرکزی ملزم شریف الاسلام سے مطابقت رکھتا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ فنگر پرنٹ اداکار کی باندرہ میں واقع رہائش گاہ کی آٹھویں منزل پر پایا گیا، جہاں مبینہ طور پر حملہ ہوا تھا۔ دیگر 19 فنگر پرنٹس کا ملزم سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ فنگر پرنٹس اس کیس میں بنیادی ثبوت نہیں ہیں۔

تحقیقات کرنے والی ٹیم کے مطابق، اداکار کی رہائش گاہ پر ملازمین، مہمانوں اور دیگر افراد کی آمد و رفت کے پیش نظر متعدد غیر متعلقہ فنگر پرنٹس کا ملنا غیر معمولی بات نہیں۔

چارج شیٹ میں شریف الاسلام کے ملوث ہونے کے حوالے سے دیگر شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی، فرانزک تجزیے اور حملے کے مقام سے ملنے والے شواہد شامل ہیں، جو پولیس کے مطابق ملزم سے جوڑے جا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ 16 جنوری 2025 کی صبح اس وقت پیش آیا جب سیف علی خان کو ان کے گھر میں مبینہ طور پر ڈکیتی کی نیت سے داخل ہونے والے ایک حملہ آور نے چاقو کے وار سے زخمی کر دیا۔ اداکار نے اپنے بیٹے کے ہمراہ مزاحمت کرتے ہوئے خود کو اور خاندان کو بچایا اور بعدازاں زخمی حالت میں لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی متعدد سرجریاں کی گئیں۔

تحقیقات کے دوران بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے شریف الاسلام کو گرفتار کیا گیا، اور پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، جس میں ملزمان نے پہلے سے رہائش گاہ کی ریکی کی تھی اور سیکیورٹی کو چکمہ دینے کے لیے وقت کا انتخاب بھی سوچ سمجھ کر کیا گیا۔

اگرچہ فنگر پرنٹس کی عدم مطابقت بعض حلقوں میں سوالات کو جنم دے سکتی ہے، پولیس کا مؤقف ہے کہ تکنیکی، فرانزک اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کیس کو مضبوطی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *