سمپسنز’ میں ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی، شو کے پروڈیوسر کی وائرل دعوے کی تردید

سمپسنز’ میں ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی، شو کے پروڈیوسر کی وائرل دعوے کی تردید



سمپسنز’ میں ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی، شو کے پروڈیوسر کی وائرل دعوے کی تردید

دی سمپسنز شو، میں ٹرمپ کی موت کی پیشگوئی، شو کے پروڈیوسر نے وائرل دعوے کی تردید کردی۔

ایک ویڈیو کلپ جو امریکی سٹکام ”دی سمپسنز“ سے ہے حال ہی میں وائرل ہوا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس شو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 12 اپریل 2025 کو موت کی پیش گوئی کی تھی۔

وائرل کلپ میں ایک کردار دکھایا گیا ہے جو ٹرمپ سے مشابہت رکھتا ہے اور اس کو تابوت میں لے جایا جا رہا ہوتا ہے اور اس کے ارد گرد سیاسی شخصیات موجود ہوتی ہیں۔ اس نے افواہوں کو جنم دیا ہے کہ شو نے صدر کی موت کی پیش گوئی کی۔ تاہم، یہ دعوے جھوٹے ہیں کیونکہ یہ کلپ کسی حقیقی ”سمپسنز“ کی قسط سے نہیں ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس طرح کا کوئی منظر کبھی بھی شو میں نہیں آیا، اور اس تصویر کو جعلی قرار دیا۔

سوشل میڈیا پرایک فرضی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ٹرمپ کا کردار ایک تابوت میں دکھایا گیا تھا، جس سے یہ تاثر ملتا تھا کہ شو نے ان کی موت کی پیشگوئی کی ہے۔ تاہم سیلمن نے کہا کہ یہ تصویر یا ویڈیو بالکل من گھڑت ہے اور اس کا دی سمپسنز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مٹ سیلمان، ”دی سمپسنز“ کے ایگزیکٹو پروڈیوسر نے تصدیق کی کہ ویڈیو جعلی تھی اور یہ منظر کبھی بھی شو میں نہیں دکھایا گیا۔ 2017 سے، ”دی سمپسنز“ کے حوالے سے ٹرمپ کی موت کی پیش گوئی کرنے والے من مانے تصویریں اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بار بار منظر عام پر آتی رہی ہیں، حالانکہ ان میں سے کوئی بھی درست نہیں ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دی سمپسنز کے بارے میں اس طرح کے جھوٹے دعوے سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل 2017 میں بھی اسی طرح کی تصاویر وائرل ہوئی تھیں، جن میں ٹرمپ کو تابوت میں دکھایا گیا تھا اور ان کی موت کی تاریخ 2024 دی گئی تھی۔ یہ تصاویر ہمیشہ جعلی ثابت ہوئی ہیں۔

اگرچہ دی سمپسنز نے ماضی میں کچھ ایسی پیشگوئیاں کی ہیں جو حقیقت میں درست ثابت ہوئیں، جیسے ٹرمپ کا صدر بننا، لیکن یہ سب اتفاقات ہیں اور ان کا مقصد پیشگوئی کرنا نہیں تھا۔ شو کے پروڈیوسر نے اس دعوے کی مکمل تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں۔



Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *