
ویب ڈیسک: پی ٹی آئی کی اہم شخصیت سینیٹر عون عباس بپی کو آج صبح گھر سے اغواءکیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جب کہ وزیرقانون نے گرفتاری کو قانونی قرار دیدیا ہے۔جس کے بعد پی ٹی آئی سینیٹرز ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔تاہم معاملے کے حل کی یقین دہانی پر ارکان واپس ایوان میں آگئے۔
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر عون عباس بپی کو آج صبح گھر سے اٹھایا گیا ہے۔ایوان کا ایک اور رکن غائب کردیا گیا۔اس وقت ملک میں جس قسم کی فسطائیت جاری ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔
شبلی فرازکا کہنا تھا کہ چئیرمین سینیٹ کے پروڈکشن آرڈرز پر عمل نہیں کیا جاتا۔کیا عون عباس بپی کو گرفتار کرنے سے پہلے چئیرمین سیکرٹریٹ کو آگاہ کیا گیا۔کسی آفیشل کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔وزیر قانون بتائیں کہ سینیٹر عون عباس بپی کو کیوں اٹھایا گیا ہے؟ ہمارے پاس عون عباس کی گرفتاری کی ویڈیو ہے۔ان کی گرفتاری اور شکار کی باتیں ایک مذاق ہے ۔
شبلی فراز نے کہا کہ ثانیہ نشتر نے استعفی دیا اس پر الیکشن نہیں ہوررہا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصرنے ثانیہ نشتر کی سیٹ پرالیکشن متعلق سینیٹ سیکریٹریٹ سےرپورٹ طلب کرلی۔
سینیٹرعلی ظفر کا ایوان کی کارروائی معطل کرنے کا مطالبہ:
سینیٹر علی ظفر نے ایوان میں اپنے بیان میں کہا کہ عون عباس بپی کے پیش ہونے تک ایوان کی کارروائی معطل کی جائے۔
سینیٹر علی ظفر کی گفتگو کے دوران سینیٹر منظور کاکڑ نے بولنے کی کوشش کی۔ جس پر ڈپٹی چئیرمین سینیٹ اور منظور کاکڑ کےدرمیان تلخ کلامی ہوگئی۔
منظور کاکڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ آپ کسی کی عزت نہیں کرتے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے جواب دیا کہ میں رولز کے مطابق کاروائی چلا رہا ہوں۔
ایوان کی کارروائی کے دوران ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور سینیٹر منظور کاکڑ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ
سینیٹر منظور کاکڑ نے کہا کہ آپ ہاتھ نیچے کرکے بات کریں۔آپ تمیز سے بات کریں، آپ بھی ہماری طرح سینیٹر ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ آپ نیچے تشریف رکھیں۔منظور کاکڑ صاحب میٹھے آدمی ہے، ٹھنڈے رہیں۔
عون عباس بپی کی گرفتاری پر وزیرقانون کا بیان:
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عون عباس بپی کو غیرقانونی طور پر نہیں اٹھایا گیا۔ عون عباس بپی کو تمام قانونی سہولیات دیں گے۔
اپوزیشن کا عون عباس بپی کی گرفتاری پر واک آوٹ
شبلی فراز نے چیئرمین سینیٹ سے مطالبہ کیا کہ آپ اس معاملہ پر رولنگ دیں۔ہم احتجاج کے طور پر ایوان سے واک آؤٹ کررہے ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سیدال خان ناصرنے ہدایت کی کہ حکومتی سینیٹرز جا کر پی ٹی آئی کو منا کر ایوان میں واپس لائیں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹرز واک آوٹ ختم کرکے واپس آگئے
منظورکاکڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ سینیٹر محسن عزیز کے بل پر اپوزیشن کی تعداد زیادہ تھی۔ اس وقت آپ کا آئین قانون کہاں گیا؟آپ کا ہاتھ ہلا کر اشارہ کرکے بات کرنے کا طریقہ ٹھیک نہیں ہے۔آپ عزت سے بات کرینگے تو زیادہ عزت دینگے۔جو کام پی ٹی آئی کرتی تھی آج آپ وہی کام کررہے ہیں۔حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں ہے۔یہ ایوان سب کا ہے آج عون عباس نشانہ بنا ہے تو کل ہم میں سے کوئی اور ہوگا۔آج عون عباس سے زیادہ گنہگار بیٹھے ہونگے لیکن اس طرف کوئی نہیں دیکھتا۔
ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ سینیٹر عون عباس بپی کی گرفتاری پر تفصیل منگوائی ہے۔میں اجلاس کے آخر میں عون عباس بپی کے معاملے پر بات کرکے جاؤں گا۔


















