داعش کے دہشتگرد شریف اللہ نے اعتراف جرم کرلیا، امریکی وزارت انصاف

داعش کے دہشتگرد شریف اللہ نے اعتراف جرم کرلیا، امریکی وزارت انصاف

داعش کے دہشتگرد شریف اللہ نے اعتراف جرم کرلیا، امریکی وزارت انصاف

امریکی وزارت انصاف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ داعش کے دہشتگرد شریف اللہ نے ایبے گیٹ حملے کی تیاری میں مدد دینے کا اعتراف جرم کرلیا ہے۔ دہشت گرد نے تسلیم کیا اس نے حملے کی تیاری کروائی۔ حملے کے لیے روٹ کی معلومات دیں۔ دہشت گردوں کو وسائل فراہم کرنے کا کیس چلایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت انصاف نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کے دہشتگرد شریف اللہ نے اعتراف جرم کرلیا، دہشتگرد نے مان لیا کہ اس نے حملے کی تیاری کروائی، شریف نے حملے کیلئے ایئرپورٹ کے قریب روٹ کی معلومات دیں۔

امریکی وزارت کے انصاف کے مطابق شریف اللہ پر دہشتگرد کو وسائل مہیا کرنے کا کیس چلایا جائے گا۔

محکمہ انصاف نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ شریف اللہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے، دہشتگرد شریف اللہ کو بدھ کے روز ویرجینیا کے مشرقی ضلع کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں امریکی حکومت نے ان کے خلاف ایک فوجداری شکایت درج کی ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل پاملا بانڈی نے کہا ہے کہ اس (شریف اللہ ) داعش کے دہشت گرد نے 13 بہادر میرینز کے وحشیانہ قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں امریکی ڈیفنس سیکریٹری نے بھی داعش کے دہشت گرد کو پکڑنے میں مدد دینے پر پاکستان کا شکریہ دا کیا، امریکی معلومات کی بنیاد پر پاکستان نے آپریشن کیا۔

پاکستان نے امریکا کو انتہائی مطلوب داعش کمانڈر کو کیسے گرفتار کیا؟

امریکی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکی خفیہ ایجنسی ”سی آئی اے“ کی فراہم کردہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے داعش کے ایک اعلیٰ کمانڈر محمد شریف اللہ کو گرفتار کیا ہے، جسے امریکا 2021 میں افغانستان سے انخلا کے دوران ایبی گیٹ بم دھماکے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اپنے کانگریس سے خطاب میں اس بات پر پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

واضح رہے کہ امریکی خبر رساں ادارے ”ایگزیوس“ نے دو امریکی حکام کے حوالے بتایا کہ مبینہ کمانڈر محمد شریف اللہ، جو ”جعفر“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، افغانستان اور پاکستان میں داعش کے ایک اہم گروہ کا رہنما تھا اور اس پر الزام ہے کہ اس نے 26 اگست 2021 کو کابل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی منصوبہ بندی اور نگرانی کی، جس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت 170 سے زائد افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔

Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *