
(ویب ڈیسک ) کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا پر ٹیرف برقرار رکھا تو وہ امریکا کو بجلی کی سپلائی منقطع کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی اشیا پر 25 فیصد اور بجلی پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا۔
جس کے جواب میں اونٹاریو کے وزیر اعلی ڈگ فورڈ نے کہا کہ وہ امریکی ریاستوں مشی گن، نیویارک اور منیسوٹا کو برآمد کی جانے والی کینیڈین بجلی پر 25 فیصد سرچارج لگائیں گے۔
ڈگ فورڈ نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکا نے ٹیرف میں مزید اضافہ کیا تو وہ ان تینوں امریکی ریاستوں کو مکمل طور پر بجلی کی سپلائی بند کر دیں گے۔
خیال رہے کہ امریکی ریاستوں ، مشی گن ، نیو یارک اور منیسوٹا میں تقریباً 15 لاکھ امریکی شہری کینیڈین بجلی پر انحصار کرتے ہیں۔
ڈگ فورڈ کا ردعمل کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو کے جوابی اقدامات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے 20.7 ارب امریکی ڈالر کی امریکی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
اونٹاریو، کینیڈا کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے اور سب سے بڑی معیشت رکھتا ہے، یہاں کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکی کمپنیوں کو صوبے کے انفراسٹرکچر منصوبوں میں بولی دینے سے بھی روک دیا اور ایلون مسک کی اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس کے ساتھ 10 کروڑ ڈالر کا معاہدہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔
ڈگ فورڈ کی جانب سے بجلی پر مجوزہ ٹیرف کے نفاذ کی حتمی تاریخ واضح نہیں، انہوں نے کہا کہ اگر امریکی ٹیرف جاری رہے تو وہ بجلی پر نیا ٹیرف نافذ کر دیں گے۔
ڈگ فورڈ نے کہا کہ ’ہمیں فوری کارروائی کرنی ہوگی اگر یہ ٹیرف اپریل تک جاری رہتے ہیں، تو ہم ان کی بجلی منقطع کر دیں گے۔‘


















