ایران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ ممکنہ نام زیرِ غور

ایران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ ممکنہ نام زیرِ غور

ایران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ ممکنہ نام زیرِ غور

ویب ڈیسک: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا مرحلہ درپیش ہے۔ خامنہ ای تقریباً چار دہائیوں تک اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کرتے رہے تاہم انہوں نے کسی باضابطہ جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا۔

ایرانی آئین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کا انتخاب 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری کرتی ہے، جو سینئر علما پر مشتمل ایک منتخب آئینی ادارہ ہے۔ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ عمل صرف ایک بار 1989 میں انجام پایا تھا، جب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے انتقال کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کو رہبرِ اعلیٰ منتخب کیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت ممکنہ طور پر جلد نئے سپریم لیڈر کا اعلان کر کے نظام میں استحکام کا پیغام دینا چاہے گی، تاہم موجودہ سیکیورٹی صورتحال میں مجلسِ خبرگان کا اجلاس بلانا بھی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

 آئینی شرائط

آئین کے تحت نئے رہبر کا مرد، شیعہ عالمِ دین، سیاسی بصیرت اور اعلیٰ اخلاقی اتھارٹی کا حامل ہونا ضروری ہے، جبکہ اسلامی جمہوریہ سے مکمل وفاداری بھی لازمی شرط ہے۔

 ممکنہ امیدوار

مجتبیٰ خامنہ ای:
سپریم لیڈر کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے پاسدارانِ انقلاب اور بسیج سے قریبی روابط بتائے جاتے ہیں، تاہم ایران میں موروثی جانشینی کے تصور کو تنقید کا سامنا رہتا ہے اور وہ کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز نہیں رہے۔

آیت اللہ علی رضا اعرافی:
مجلسِ خبرگان کے نائب چیئرمین اور دینی مدارس کے سربراہ ہیں۔ انہیں انتظامی صلاحیتوں کا حامل اور خامنہ ای کے قریبی حلقوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں ان کا اثر محدود بتایا جاتا ہے۔

محمد مہدی میرباقری:
سخت گیر مؤقف رکھنے والے عالم دین اور مجلسِ خبرگان کے رکن ہیں۔ انہیں قدامت پسند مذہبی دھڑے کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور وہ مغرب مخالف خیالات کے لیے جانے جاتے ہیں۔

حسن خمینی:
بانی انقلاب آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے ہیں اور مزارِ خمینی کے متولی ہیں۔ انہیں نسبتاً معتدل خیالات کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم وہ کسی بڑی سرکاری ذمہ داری پر فائز نہیں رہے اور ماضی میں مجلسِ خبرگان کے انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیے گئے تھے۔

ہاشم حسینی بوشہری:
مجلسِ خبرگان کے پہلے نائب چیئرمین ہیں اور جانشینی کے عمل سے جڑے اداروں میں اہم کردار رکھتے ہیں۔ انہیں خامنہ ای کے قریب سمجھا جاتا ہے، تاہم عوامی سطح پر ان کا پروفائل زیادہ نمایاں نہیں۔

ایران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ نہ صرف داخلی سیاست بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *