ایران میں مہنگائی اور سیاسی بحران کے باعث ریال کی قدر تاریخی حد تک گر گئی

ایران میں مہنگائی اور سیاسی بحران کے باعث ریال کی قدر تاریخی حد تک گر گئی

ایران میں مہنگائی اور سیاسی بحران کے باعث ریال کی قدر تاریخی حد تک گر گئی

ویب ڈیسک: ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، اور اسی دوران ایرانی کرنسی ریال کی قدر تاریخی طور پر گر گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایرانی ریال کی قدر اب صفر ڈالر کے برابر ہو چکی ہے، یورو کے مقابلے میں بھی اس کی قیمت صفر ہوگئی ہے، جبکہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ریال کی قیمت صرف 26 پیسے رہ گئی ہے۔

ایران اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے، جہاں عوام بنیادی ضروریات کی تکمیل میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایرانی ریال کی گراوٹ نے عالمی مالیاتی نظام سے ایران کو مزید الگ تھلگ کر دیا ہے، کیونکہ اب یورپی ممالک میں ریال کی ایکسچینج ممکن نہیں رہی۔

ایران کی کرنسی کی قدر میں یہ زوال غیر معمولی ہے۔ بھارتی روپے کے مقابلے میں ریال کی قدر صرف 0.000091 پیسے رہ گئی ہے، اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں یہ 0.0000010 سینٹ تک گر چکی ہے۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یورو کے مقابلے میں ریال کی قدر مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

ایرانی ریال کی گراوٹ کی 5 بڑی وجوہات:

1. امریکی اور بین الاقوامی پابندیاں: ایران کی برآمدات اور تیل سے حاصل ہونے والے ڈالر تک رسائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے ریال پر دباؤ بڑھا۔
2. شدید مہنگائی: دسمبر 2025 میں صارفین کی قیمتوں میں 42.5% اضافہ، جس سے شہری غیر ملکی کرنسی یا ضروری اشیا خریدنے پر مجبور ہوئے۔
3. کمزور معاشی نمو: ایران کی جی ڈی پی میں 2025 میں 1.7% کمی ہوئی، جس سے مالی استحکام متاثر ہوا۔
4. پالیسی میں تبدیلیاں: درآمد کنندگان کو غیر ملکی کرنسی کھلی منڈی کی شرح پر خریدنے کی پابندی، جس سے ڈالر کی طلب میں اضافہ ہوا۔
5. سیاسی بے چینی: مذہبی قیادت اور معاشی بدانتظامی کے خلاف احتجاج نے کرنسی کی قدر میں مزید گراوٹ پیدا کی۔

Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *