
راولپنڈی : فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز عاصم منیر نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی حمایت سے دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کے معصوم شہریوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں قومی علماء مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ افغانستان سے آنے والی فتنہ الخوارج کی تنظیموں میں 70 فیصد افراد افغان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ فتنہ الخوارج یا پاکستان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں ملک کو درپیش چیلنجز، دہشتگردی، قومی سلامتی، اقوامِ عالم میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار، جنگی تیاریوں اور علم کی اہمیت پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے قرآن پاک کی آیات اور اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو واضح کیا، اور کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو اسلامی ممالک میں سے محافظِ حرمین کا شرف عطا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستِ طیبہ (مدینہ) اور ریاستِ پاکستان کے درمیان گہرا تعلق اور مماثلت ہے، کیونکہ دونوں ریاستوں کا قیام کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر رمضان کے مقدس مہینے میں ہوا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان کا مقصد خادم الحرمین اور محافظ الحرمین بننا تھا اور اسی مقصد کے تحت دونوں ریاستوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔
فیلڈ مارشل نے اپنے خطاب میں آپریشن بنیان المرصوص کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن میں اللہ کی مدد کی واضح نشاندہی کی گئی، اور یہ کہ کسی بھی اسلامی ریاست میں جہاد کا حکم یا فتویٰ صرف ریاست دے سکتی ہے، نہ کہ کسی فرد یا گروہ کو۔
آخر میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ وہ قومیں جو اپنے اسلاف کی علمی اور فکری میراث اور قلم کی طاقت کو نظرانداز کرتی ہیں، وہ آخرکار زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہیں۔


















