
لاہور : آج برصغیر کے معروف اور قادر الکلام شاعر جوش ملیح آبادی کا 127واں یوم پیدائش منایا جا رہا ہے۔ جوش ملیح آبادی، جو اردو ادب کے ایک درخشاں ستارے کے طور پر جانے جاتے ہیں، 5 دسمبر 1898ء کو ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شبیر حسن خان تھا، اور “جوش” ان کا قلمی نام تھا جو انہوں نے اپنے شہر “ملیح آباد” کے نام سے اخذ کیا۔
جوش کی شاعری کی خصوصیت ان کی زبان کی قدرت، ان کے خیالات کی گہرائی اور الفاظ کے انتخاب کی بے مثال مہارت تھی۔ انہیں الفاظ کا سمندر کہا جاتا تھا اور ان کی شاعری نے اردو ادب کو ایک نیا رنگ دیا۔ جوش نے اپنے شعری سفر کا آغاز صرف 9 برس کی عمر میں کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کو ایک انفرادیت اور بلند مقام تک پہنچایا۔
ان کی تصانیف میں “شعلہ و شبنم”، “جنون و حکمت”، “فکرو نشاط”، “عروس ادب”، “حرف و حکایت”، “روح ادب”، “آوارہ حق”، “سنبل و سلاسل” اور ان کی خود نوشت سوانح “یادوں کی برات” شامل ہیں، جو نہ صرف اردو ادب کے عظیم ورثے کا حصہ ہیں بلکہ ان کی شخصیت اور خیالات کی گہرائی کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
جوش ملیح آبادی صرف شاعر نہیں بلکہ ایک مجاہدِ آزادی، نثر نگار، مدیر، نغمہ نگار اور صحافی بھی تھے۔ 1948ء میں انہوں نے رسالہ “آج کل” کے ایڈیٹر کی حیثیت سے قلم کا جو کردار ادا کیا، وہ اردو صحافت اور ادب کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
جوش کی زندگی کا مقصد تھا کہ وہ ہمیشہ لکھتے رہیں اور اپنے خیالات کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کریں۔ ان کی شاعری اور تحریریں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں اور اردو ادب کا قیمتی اثاثہ بنی ہوئی ہیں۔ جوش ملیح آبادی نے 22 فروری 1982ء کو ہم سے رخصت ہو گئے، مگر ان کا کلام اور اثرات ہمیشہ زندہ رہیں گے۔آج ان کی برسی پر ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے کلام کو زندہ رکھتے ہیں۔


















