بی ایل اے  ملک کے لیے سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ

بی ایل اے  ملک کے لیے سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ


پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو برسوں تک محض ایک “علیحدگی پسند تحریک” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن اب یہ تشریح پرانی اور غلط ہے۔ اس  بارے میں  ریئل کلیئر ورلڈمیں امریکی سابق فوجی افسر و دفاعی تجزیہ کار    جوئے بوکینو نے ایک آرٹیکل لکھا ہے۔ اس میں اس حوالے سے تفصیل سے گفتگو کی ہے۔  اس میں بتایاگیا ہے کہ جس تحریک نے کبھی سیاسی مطالبات اور سرد جنگ کے اثرات کی بنیاد پر آغاز کیا تھا، آج وہ ایک ایسے ادارے میں بدل چکی ہے جو جدید دہشتگردی کے اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں بی ایل اے  نے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو براہِ راست نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ آرٹیکل کے مطابق حالیہ مثال 31 جنوری 2026 کے بیلاچستان میں ہونے والے منظم حملے ہیں، جن میں درجنوں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ اب یہ گروہ مقامی بلوچ عوام کے مطالبات سے منقطع ہو کر صرف انتشار پھیلانے اور پاکستان کی ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آزاد سروے اور سیاسی مطالعات سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ عوام کے بیشتر مسائل علیحدگی نہیں بلکہ روزگار، حکومتی ناکامی، کرپشن، خراب عوامی سہولیات اور بدامنی سے متعلق ہیں۔ گیلپ پاکستان اور PILDAT کے جائزے بتاتے ہیں کہ عوام کا دھیان سیاسی شمولیت اور بہتر وسائل کی فراہمی پر ہے، نہ کہ علیحدگی پر۔ بیشتر بلوچ خود کو پاکستانی مانتے ہیں، اور سیاسی قیادت بھی آئینی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی خواہاں ہے۔
ابتدائی دور میں BLA نے صرف فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے، لیکن گزشتہ دہائی میں خودکش حملے، متعدد شہروں میں یکساں حملے، ٹرین ہائی جیکنگ، اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے جیسی کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ سکول، بسیں اور عوامی ادارے اب ان کے ہدف ہیں۔ Majeed Brigade اور Fateh Squad جیسی نیم خودمختار یونٹیں اس میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔
آرٹیکل میں بتایاگیا ہے کہ   بی ایل اے  آج اغوا، تاوان، سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی کاروبار سے مالی وسائل اکٹھا کرتی ہے۔ ساتھ ہی، یہ مختلف نظریاتی دہشتگرد گروہوں کے ساتھ وقتی بنیادوں پر تعاون کرتی ہے، جو اس کے سیاسی منشور کی بجائے فوری مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈور سے متعلق منصوبوں، چینی شہریوں اور اہم اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا بھی ظاہر کرتا ہے کہ BLA اب علاقائی طاقتوں کے مفادات کا آلہ بن چکی ہے۔
بی ایل اے  کے لیے “علیحدگی پسند تحریک” کا لیبل دینا اب حقیقت کے منافی ہے۔ یہ ایک دہشتگرد گروہ ہے جو سیاسی بیانیے کو اپنے مظالم کو جائز بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلوچ عوام کے جائز مطالبات حقیقی اور اہم ہیں، لیکن BLA کی کارروائیاں ان کی حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس کے اصل روپ میں  ایک منظم دہشتگرد نیٹ ورک   کے طور پر پہچانا جائے۔

  • بی ایل اے  ملک کے لیے سنگین اور بڑھتا ہوا خطرہ





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *