
روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی ٹیم کے کیمپ میں ہلچل مچ گئی۔ ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ ہنگامی مشاورت میں مصروف ہے اور تھنک ٹینک نے سینئر کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بدھ کو نمیبیا کے خلاف ہونے والے آخری گروپ میچ میں کپتان بابر اعظم اور فاسٹ بالر شاہین آفریدی کو آرام دیے جانے کا امکان ہے۔
ٹیم میں دو سے تین تبدیلیاں متوقع ہیں جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکواڈ میں خواجہ نافع، نسیم شاہ اور سلمان مرزا کو شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ ٹیم میں نئی توانائی اور کمبی نیشن لایا جا سکے۔
دوسری جانب بھارت کے خلاف تین برسوں میں مسلسل آٹھویں شکست کے بعد سابق کرکٹرز نے قومی کرکٹ ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر شدید تنقید کی گئی اور ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
سابق کپتان محمد یوسف نے کہا کہ شاہین، بابر اور شاداب خان کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کو نئے چہروں اور نئی سوچ کی ضرورت ہے، صرف کمزور ٹیموں کے خلاف کامیابیاں کافی نہیں ہوتیں۔
سابق کپتان شاہد آفریدی بھی برہم دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اختیار ہو تو وہ تینوں سینئرز کو باہر بٹھا دیں۔ ٹیم میں ایسے سینئرز کا کیا فائدہ جو توقعات پر پورا نہیں اتر رہے؟
سابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجا نے بیٹرز کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قومی کھلاڑیوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور بھارت کے خلاف بے تکی کرکٹ کھیلی گئی۔
دیگر سابق کرکٹرز نے بھی ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ اور آپریشن کلین اپ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے کیے جائیں، چاہے وہ کتنے ہی بڑے نام کیوں نہ ہوں۔
اب نظریں نمیبیا کے خلاف آئندہ میچ پر مرکوز ہیں، جہاں ممکنہ تبدیلیاں نہ صرف ٹیم کمبی نیشن بلکہ مستقبل کی حکمت عملی کا بھی تعین کریں گی۔
واضح رہے کہ 15 جنوری کو کولمبو میں کھیلے گئے ٹی 20 ورلڈ کپ کے 27 ویں میچ میں بھارت کے ہاتھوں پاکستان کو 61 رنز کے بڑے مارجن سے شکست ہوئی تھی۔


















