بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف سلامتی کونسل میں اہم ‘آریا فارمولہ’ اجلاس

بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف سلامتی کونسل میں اہم ‘آریا فارمولہ’ اجلاس



بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف سلامتی کونسل میں اہم ‘آریا فارمولہ’ اجلاس

نیویارک:پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’’معاہدات کی حرمت کے تحفظ‘‘ کے موضوع پر ایک اہم اَریا فارمولہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
30 جنوری کو منعقد ہونے والے اس غیر رسمی اور حساس نوعیت کے اجلاس میں تمام خطوں سے 40 رکن ممالک نے شرکت کی۔ اجلاس کی خاص بات یہ تھی کہ جہاں عالمی برادری نے اس معاملے پر گہری دلچسپی دکھائی، وہاں بھارت نے اس اہم بحث میں شرکت سے گریز کیا۔
اجلاس کے دوران اقوامِ متحدہ کے قانونی امور کے ماہر ڈیوڈ نینوپولوس، معروف ماہرِ قانون احمر بلال صوفی، پرنس زید رعد الحسین اور پروفیسر عادل نجم نے بریفنگ دی۔ ماہرین نے متفقہ طور پر درج ذیل نکات پر زور دیا۔بین الاقوامی معاہدے عالمی تعلقات میں استحکام کی بنیاد ہیں اور یہ تمام فریقین پر قانونی طور پر پابند ہوتے ہیں۔
 کسی بھی ملک کی جانب سے عالمی قوانین اور معاہدوں کو کمزور کرنا اجتماعی عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔     مقررین نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے ارادے کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
پاکستانی مندوب نے اجلاس میں واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر مؤثر ہے۔ پاکستان نے زور دیا کہ دونوں ممالک معاہدے کے تحت تنازعات کے حل کے طریقہ کار (Dispute Resolution Mechanism) پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں اور کوئی بھی فریق تنہا اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔
شریک ممالک نے سندھ طاس معاہدے کو خطے میں امن اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ اجلاس میں یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی دور رس اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔





Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *