لاہور: آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے کہا ہے کہ 75 روپے کے یادگاری بینک نوٹ کے اجرا کا فیصلہ غیر محتاط تھا اور اس کے نتیجے میں قومی خزانے پر تقریباً 1.97 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ پڑا۔
نمائندہ نیو نیوز لاہور ادریس شیخ کا کہنا ہے کہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق، سٹیٹ بینک نے دو ڈیزائنز کے ساتھ نوٹ جاری کیے ایک یوم آزادی اور دوسرا اسٹیٹ بینک کے قیام کی مناسبت سے۔ 30 جون 2023 تک ان نوٹوں کی طباعت اور ترسیل پر بھاری اخراجات کیے گئے، جبکہ ان نوٹوں کی مجموعی مالیت پہلے ہی 9.15 ارب روپے تک گردش میں تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ عوامی سطح پر نوٹ کی قبولیت نہ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے 6 مارچ 2023 کو نوٹوں کی تعداد 7 کروڑ 20 لاکھ کر دی، جو مارکیٹ کی حقیقی طلب کے مطابق نہیں تھی۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ یہ فیصلہ مارکیٹ ڈیمانڈ کے مناسب جائزے کے بغیر کیا گیا، جس سے غیر ضروری مالی بوجھ پڑا۔
سٹیٹ بینک نے جواب دیا کہ نوٹ یادگاری طور پر جاری کیے گئے اور وفاقی حکومت کی منظوری پر عمل کیا گیا، لیکن آڈٹ حکام نے اس جواب کو تسلی بخش قرار نہیں دیا۔ آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس بلانے کی یاددہانیاں متعدد بار دی گئی ہیں، تاہم اب تک اجلاس منعقد نہیں ہوا۔



















