
کوئٹہ : وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کی 145 لاشیں ان کے پاس موجود ہیں اور گوادر میں ہونے والے حالیہ حملے میں پانچ خواتین اور تین بچوں کو شہید کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد بندوق کے زور پر اپنا نظریہ بلوچستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، لیکن بلوچستان حکومت انہیں اس بات کی اجازت نہیں دے گی۔
کوئٹہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں کی انٹیلی جنس رپورٹ پہلے ہی آچکی تھی اور حکومت نے ایک دن پہلے ہی آپریشن شروع کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے کیونکہ بی ایل اے (بلوچستان لبریشن آرمی) ایک غیر رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے، اور وہ ہندوستان کی ایما پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان میں طاقت کا استعمال کبھی نہیں کیا گیا، اور اگر کوئی چھوٹے آپریشن کیے گئے ہیں، تو وہ صرف دہشت گردوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ یہ جنگ قومیت کی نہیں، بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ہے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گرد بلوچستان کے عوام کو لاحاصل جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، اور بلوچستان حکومت اس جنگ میں ایک ہزار سال تک لڑنے کا عزم رکھتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا کو پروپیگنڈے کا ایک ذریعہ بنایا جا رہا ہے اور اس کے ذریعے بلوچستان میں ہونے والے واقعات کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان ہندوستان کی پراکسی جنگ لڑ رہا ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کو ان کے بلوں سے نکال کر ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی بھی سخت مذمت کی اور کہا کہ دہشت گرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ جیسے خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور انہیں ان کے اپنے ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں نے سب سے پہلے سیف سٹی کیمروں کو نشانہ بنایا کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے اقدامات کی پکڑ ہو سکے۔ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے خود کوئٹہ شہر میں کل پرچھائیں کیں، اور دہشت گردوں کو بچوں کو اپنے ساتھ لے کر استعمال کرتے ہوئے حملے کرتے دیکھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ حق اور باطل کی ہے، اور پاکستان کبھی نہیں ہارے گا۔


















