
وفاق سے پہلے بجٹ پیش کرنا بظاہر خیبر پختونخوا حکومت کے گلے پڑ گیا، کیونکہ صوبائی حکومت نے منی بجٹ سمیت دیگر آپشنز پر غور شروع کردیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ عید کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔
وفاقی بجٹ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت شش وپنج میں پڑگئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے منی بجٹ لانے پر غور شروع کردیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاق نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کا اعلان کیا، جب کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھائیں جب کہ صوبائی حکومت نے تنخواہوں میں اضافہ وفاق کے برابر لانے کا وعدہ کیا تھا۔
اس ساری صورتحال میں تنخواہوں اور پنشن میں مزید اضافے سے اربوں روپے کا بوجھ برداشت کرنا ہوگا۔
اس کے علاوہ ضم اضلاع کے لئے صوبائی حکومت اور وفاق کے محصولات میں واضح فرق ہے۔ صوبے کو وفاق سے 259 ارب روپے ملنے کی توقع تھی جو خواب ہی رہ گئی۔
تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے خیبرپختونخوا کی حکومت سوچ بچار کر رہی ہے کہ منی بجٹ لایا جائے یا کچھ اور اقدامات کیے جائیں۔
صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے مشاورت کی جائے گی، عید کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کریں گے۔


















