
کینیا کی معروف ماحولیاتی کارکن تروفینا متھونی نے درخت کو مسلسل 72 گھنٹے تک گلے لگا کر نیا ریکارڈ قائم کردیا۔ انہوں نے یہ کارنامہ نہ صرف اپنے سابقہ 48 گھنٹے کے ریکارڈ کو توڑتے ہوئے انجام دیا بلکہ ماحول کے تحفظ کا پیغام بھی عالمی سطح پر نمایاں کیا۔
کینیا کی ماحولیاتی کارکن نیری نے اس چیلنج کے لیے نیری قصبے کے سرکاری احاطے میں موجود ایک مقامی اور قدیم درخت کا انتخاب کیا۔ جہاں ان کے حامی اور معاونین ہر لمحہ ان کی ہمت بڑھاتے رہے۔ ایک موقع پر وہ نیند کے غلبے میں لڑکھڑا گئیں مگر ان کے ساتھیوں نے فوراً انہیں سنبھالا، جنہوں نے اس مہم کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مبصرین کی فیس بھی ادا کی۔
متھونی نے اس چیلنج کو ”انسانیت کو جگانے والا پرامن پیغام“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اکثر مظاہروں میں بدنظمی کی خبریں سننے کو ملتی ہیں، مگر درخت کو گلے لگانے کا یہ علامتی احتجاج تمام اختلافات سے بالاتر ہوکر یکجہتی کی علامت ہے۔
اس موقع پر ان کا مخصوص لباس بھی توجہ کا مرکز رہا۔ انہوں نے بتایا کہ سیاہ رنگ افریقی طاقت، مزاحمت اور ثابت قدمی کی علامت ہے جبکہ سبز رنگ جنگلات کی بحالی، امید اور نئی زندگی کی نشانی ہے۔
سرخ رنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مقامی کمیونٹیز کی جدوجہد اور حوصلے کا اظہار ہے، جبکہ نیلا رنگ پانی اور سمندروں کے محافظوں کی نمائندگی کرتا ہے۔
تروفینا متھونی کا کہنا تھا کہ وہ اس اقدام کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی اور جنگلات کی تیزی سے ہونے والی کٹائی کے خطرات کے بارے شعور بیدار کرنا چاہتی ہیں۔


















