
ویب ڈیسک: پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بسنت کا تہوار صرف لاہور میں اور محدود پیمانے پر منایا جائے گا، جبکہ صوبے بھر میں تقریبات کے انعقاد کی قبل ازیں گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی کی جانب سے 24 دسمبر کو پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025 کی منظوری کے بعد 18 برس کے وقفے کے بعد بسنت کی لاہور میں واپسی ہو رہی ہے۔
لاہور کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے 6 سے 8 فروری 2026 تک تین روزہ بسنت فیسٹیول کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، تاہم لاہور کے علاوہ صوبے کے تمام اضلاع میں پتنگ بازی بدستور مکمل طور پر ممنوع رہے گی۔
اس فیصلے کی توثیق پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے 46ویں کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں کی گئی، جس کی صدارت خواجہ سلمان رفیق نے کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے پنجاب ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے بسنت کی اجازت صرف لاہور تک محدود رکھنے کی منظوری دی ہے اور دیگر علاقوں میں زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی جائے گی۔
بسنت سے متعلق انتظامات پر غور کے لیے ڈویژنل کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز سمیت سینئر حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔
حکام نے واضح کیا کہ لاہور کے علاوہ کسی بھی ضلع میں پتنگ بازی پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کی خلاف ورزی تصور ہو گی، جس پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام کے مطابق لاہور میں بسنت کا انعقاد ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر کیا جا رہا ہے، اور کسی بھی سنگین حادثے کی صورت میں اس تہوار پر مستقل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جشن کے دوران حفاظتی اصولوں پر عمل کریں اور غیر قانونی سرگرمیوں سے گریز کریں۔
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ بسنت کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز مفت بس اور رکشہ سروس فراہم کریں، جبکہ موٹر سائیکل کے استعمال کو محدود رکھنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔ ٹریفک کے بہتر انتظام کے لیے کالجز اور یونیورسٹیوں کی بسیں بھی استعمال کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیے ہیں، کیمیکل اور دھاتی ڈور سے ہونے والے حادثات اور زخمی ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں، بشمول پتنگ بازوں اور ڈور بنانے والوں، کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
یہ کریک ڈاؤن حالیہ متعدد واقعات کے بعد مزید سخت کیا گیا ہے، جن میں قصور میں ایک چھ سالہ بچی کے زخمی ہونے کا واقعہ بھی شامل ہے، جہاں موٹر سائیکل پر سوار بچی کا گلا کیمیکل لگی ڈور سے کٹ گیا تھا۔


















