
ویب ڈیسک :امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس ممالک، جن میں بھارت، چین، روس، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ڈالر کے غلبہ کو چیلنج کرتے ہوئے اپنی کرنسی لانچ کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ سوچنا چھوڑ دیں کہ ’’ برکس ممالک خود کو ڈالر سے دور کر رہے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہیں گے۔ اب ایسا نہیں ہونے والا۔ ’’
’’ان نام نہاد حریف ممالک کو واضح طور پر وعدہ کرنا ہو گا کہ وہ طاقتور امریکی ڈالر کو بدلنے کے لیے نہ تو نئی برکس کرنسی بنائیں گے اور نہ ہی کسی دوسری کرنسی کی حمایت کریں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو انہیں 100% ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔’’
’’ یہی نہیں بلکہ انہیں امریکہ کی عظیم مارکیٹ میں اپنا سامان بیچنا بھی بھولنا پڑے گا۔ یہ ممالک کوئی اور احمق ملک ڈھونڈ سکتے ہیں۔ برکس ممالک کے پاس بین الاقوامی تجارت یا کسی اور جگہ امریکی ڈالر کی جگہ لینے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر کوئی ملک ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ٹیرف کے لیے تیار رہنا پڑے گا۔ یہی نہیں اسے امریکہ کو بھی الوداع کہنا پڑے گا۔’’
برکس ممالک کی جانب سے اپنی کرنسی بنانے کا مقصد عالمی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کرنا ہے۔ روس اور چین پہلے ہی یوان اور دیگر مقامی کرنسیوں میں تجارت کر رہے ہیں اور اب یہ گروپ ایک مشترکہ کرنسی کے ذریعے امریکی ڈالر کی برتری کو کم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اگر برکس ممالک اپنی کرنسی لانچ کرتے ہیں، تو یہ امریکی ڈالر کے غلبہ کو کمزور کر سکتا ہے اور امریکہ کی اقتصادی طاقت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ امریکہ کی عالمی معاشی برتری کی ایک بڑی وجہ اس کے ڈالر کی اہمیت ہے، جو اگر کم ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا جھٹکا لگ سکتا ہے۔
چین اور روس پہلے ہی امریکی ڈالر سے دور ہونے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں، اور بھارت اور برازیل بھی مقامی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صرف 10 دنوں میں یہ دوسرا موقع ہے جب ٹرمپ نے BRICS ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی ہے۔ اس سے قبل حلف اٹھانے کے فوراً بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو BRICS ممالک پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی۔
Source link


















