
ویب ڈیسک: امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت پاکستان پر حملے کے لیے بنیاد تیار کر رہا ہے، تاہم پہلگام واقعے سے متعلق بھارتی حکام تاحال کوئی ٹھوس شواہد فراہم نہیں کر سکے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے درجنوں عالمی رہنماؤں سے رابطہ کر کے پاکستان کے خلاف اقدامات میں مدد اور تعاون طلب کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئی دہلی میں وزارت خارجہ نے 100 سے زائد غیر ملکی سفارتکاروں کو بریفنگ دی، تاہم بھارتی حکام کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت عالمی برادری میں کشیدگی کم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کا جواز تیار کر رہا ہے۔ مودی حکومت نے پاکستان پر دہشت گردوں کی مبینہ حمایت کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید ردعمل کی دھمکی بھی دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی تجزیہ کار اور سفارتکار تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت کو پاکستان پر حملے سے قبل دہشت گردانہ حملے سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کرنے کی ضرورت ہے۔
نیویارک ٹائمز کا مزید کہنا ہے کہ بھارت نے 1960 کے تاریخی “انڈس واٹر ٹریٹی” کو بھی معطل کر دیا ہے جبکہ اب تک پاکستان کے خلاف کوئی عوامی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف کئی عالمی ریاستوں نے بھارت سے ٹھوس شواہد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت نے سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے کئی پاکستانی سفارتکاروں کو ملک بدر کر دیا اور ویزے بھی منسوخ کر دیے۔
انسانی حقوق کی صورتحال پر نیویارک ٹائمز نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے جس کے باعث انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آ رہی ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلم مخالف جذبات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور کشمیری طلباء کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
Source link


















