پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں صرف امدادی کارروائیوں کے لیے کھولی ، ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں صرف امدادی کارروائیوں کے لیے کھولی ، ترجمان دفتر خارجہ



پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں صرف امدادی کارروائیوں کے لیے کھولی ، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش کے حوالے سے ایک بار پھر اپنے موقف کو واضح کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر انداربی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدیں صرف امدادی کارروائیوں کے لیے کھولی ہیں، اور یہ سرحدیں تب تک بند رہیں گی جب تک افغانستان کی طرف سے دہشت گردوں اور پرتشدد عناصر کی پاکستان میں داخلے کو روکنے کی پختہ یقین دہانی نہیں کی جاتی۔

ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں صرف انسانی امداد کے لیے کھولی گئی ہیں، جس میں یو این کی امدادی اشیاء کو استثنیٰ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان نے بھی اپنی جانب سرحدیں بند کر رکھی ہیں اور اس حوالے سے اب وہ خود جواب دہ ہیں۔

طاہر انداربی نے مزید کہا کہ پاکستان کو یہ یقین دہانی چاہیے کہ دہشت گردوں اور افغان شہریوں کے ذریعے پاکستان میں ہونے والے سنگین جرائم کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سرحد کی بندش صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ہے، بلکہ افغان شہریوں کی جانب سے بھی پاکستان میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے سکیورٹی خدشات موجود ہیں۔

پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے لیے عملی تعاون کی ضرورت ہے، اور افغانستان کے ساتھ امن و سلامتی کے حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ، دفتر خارجہ نے کرغزستان کے صدر کے دورے کا بھی ذکر کیا، جس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے اور تجارتی حجم کو 200 ملین ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا۔ کرغز صدر نے پاکستان کے بزنس فورم سے خطاب بھی کیا، اور دونوں ممالک کے درمیان ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔

دوسری جانب، طاہر انداربی نے بھارت میں بابری مسجد کے انہدام کے 33 سال مکمل ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ واقعہ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتی برادریوں کے احساس محرومی کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر مذہبی ورثے کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا اور کسی بھی مقدس مقام کی بے حرمتی کے خلاف سخت احتساب کا مطالبہ کیا۔

پاکستان نے افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، اور کہا کہ یہ روابط پاکستان کے لیے ایک خطرہ ہو سکتے ہیں، جس پر پاکستان مسلسل نظر رکھے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان نے اپنے سکیورٹی مفادات کے پیش نظر افغانستان کے ساتھ سرحد کی بندش برقرار رکھی ہے اور سرحد کھولنے کے لیے افغان حکومت سے دہشت گردی کے حوالے سے پختہ یقین دہانی کی شرط رکھی ہے۔





Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *