
ویب ڈیسک:پاکستان کے معروف کبڈی کھلاڑی عبید اللہ راجپوت نےحال ہی میں دسمبر 2025 میں ایک بڑے تنازع کا شکار ہوئے ہیں، عبید اللہ راجپوت نے بحرین میں منعقدہ ایک کبڈی ٹورنامنٹ میں بھارتی ٹیم کی نمائندگی کی اور ان کی کٹ پہن کر میچ کھیلا اس پر پاکستان کبڈی فیڈریشن نے سخت ایکشن لے لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں عبید اللہ راجپوت کو بھارتی ٹیم کی جرسی پہنے اور بھارتی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا گیا، جس پر پاکستانی شائقین اور حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ کھلاڑی نے این او سی (NOC) کے بغیر بھارتی ٹیم کی طرف سے کھیلا، جو کہ ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے، پی کے ایف نے کھلاڑی کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا اشارہ دیا ہے، جس میں ان پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔
فیڈریشن سیکرٹری رانا سرور کا کہنا تھا کہ چیئرمین چوہدری شافع حسین نے 27 دسمبر کو اجلاس طلب کیا ہے، بحرین میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں پاکستان کے 16 کھلاڑیوں نے شرکت کی، پاکستان کی یہ قومی ٹیم نہیں تھی اور نہ ہی اس کی اجازت طلب کی گئی، نہ ان کھلاڑیوں کو این او سی جاری کیا گیا۔
رانا سرور کا کہنا تھا کہ قومی کھلاڑی کا بھارتی ٹیم کی جانب سے کھیلنا اور جھنڈا لہرانا ناقابل برداشت ہے، معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور سخت ترین ایکشن لیا جائے گا ،خود ساختہ پروموٹرز کے خلاف بھی ایکشن لیں گے ، کسی کو غیر قانونی ایونٹ کی اجازت نہیں دیں گے۔
دوسری جانب کھلاڑی عبداللہ راجپوت نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں پاکستان کے خلاف بھارت کی طرف سے کھیل رہا ہوں۔ عبداللہ نے یہ عجیب منطق پیش کی کہ مجھے پتہ نہیں تھا کہ ٹیموں کا نام انڈیا اور پاکستان رکھا جائےگا۔
عبداللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ میں نے تو کمنٹیٹر سے کہا تھا کہ وہ اعلان کرکے کہے کہ یہ انڈیا پاکستان کا میچ نہیں ہے بلکہ لوکل کپ ہے۔
عبیداللہ راجپوت نے کہا کہ ہرسال یہ ٹورنامنٹ بحرین میں ہوتا ہے، میں پہلے بھی اس کپ میں شرکت کرچکاہوں، پہلے جس ٹیم سے کھیلا تھا انہوں نے اس بار مجھے نہیں بلایا، دوسری ٹیم نےبلایا تو میں وہاں چلاگیا۔
یہ پتہ نہیں تھا کہ ٹیموں کا نام انڈیا اور پاکستان رکھا جائےگا، گراؤنڈ میں داخل ہو رہا تھا تو دوستوں نے کہا کہ آپ انڈیا کی طرف سے کھیل رہے ہو،اگر ورلڈکپ ہوتا تو میں ضرور پاکستان سے کھیلتا، میں پاکستانی ہوں، پاکستان پر جان بھی قربان ہے، کچھ لوگوں نے منفی کمنٹس بھی کیے، اگر میری وجہ سے کسی کا دل دکھی ہوا ہے تو معافی چاہتاہوں اور اپنی فیڈریشن، استاد اور چاہنےوالوں سے معذرت کرتاہوں، اس کپ کو کپ ہی رہنے دیں۔


















