
ویب ڈیسک:مختصر ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک کا مواد تجویز کرنے والا طاقتور الگورتھم ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جب چینی کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکی اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبے کے معاہدوں پر دستخط کر دیے، جس کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کا کنٹرول نئی جوائنٹ وینچر کمپنی کو منتقل کیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں ٹک ٹاک پر ممکنہ پابندی اور چین امریکا ٹیکنالوجی کشیدگی پر مسلسل بحث جاری ہے۔ تاہم سب سے بڑا سوال اب بھی یہی ہے کہ ٹک ٹاک کے مشہور الگورتھم کا اصل کنٹرول کس کے پاس ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ الگورتھم ٹک ٹاک کی عالمی کامیابی کا بنیادی ستون ہے۔ سابق امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل اہلکار رش دوشی کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ الگورتھم مکمل طور پر منتقل کیا گیا ہے، لائسنس پر دیا گیا ہے یا بدستور بیجنگ کے کنٹرول میں ہے، جبکہ اوریکل صرف نگرانی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ٹک ٹاک کے الگورتھم کو دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے منفرد بنانے والی بات یہ ہے کہ یہ صارفین کے سوشل نیٹ ورک کے بجائے ان کی دلچسپیوں کے اشاروں پر کام کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مختصر ویڈیو فارمیٹ نے الگورتھم کو زیادہ تیز، متحرک اور وقت کے ساتھ صارف کی بدلتی ترجیحات کو سمجھنے کے قابل بنایا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک صرف صارف کی پسندیدہ ویڈیوز ہی نہیں دکھاتا بلکہ جان بوجھ کر ایسی ویڈیوز بھی تجویز کرتا ہے جو صارف کی سابقہ دلچسپیوں سے ہٹ کر ہوں۔
ایک تحقیق کے مطابق 30 سے 50 فیصد ویڈیوز صارفین کی براہِ راست دلچسپی سے باہر ہوتی ہیں، جس کا مقصد صارف کی دلچسپی کو بہتر طور پر جانچنا اور ایپ پر وقت گزارنے کو بڑھانا ہے۔


















