
اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن ٹربیونلز تبدیل کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل میں ہائیکورٹ کا یک معزز حاضر سروس جج تھا، اگر آپ نے باہر کرنا ہے تو پھر عدالت کو گراؤنڈ بھی بتانے ہونگے۔
الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی، کیس میں درخواست گزار اور الیکشن کمیشن کے وکلا پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی ۔ ہائی کورٹ نے الیکشن ٹریبونل جج کی تبادلے سے متعلق ریکارڈ دو بجے تک طلب کرلیا. عدالت نے کیس کی سماعت میں دو بجے تک وقفہ کردیا ہے.
چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ ٹریبونل میں جج کا تبادلہ کس قانون کے تحت کیا؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ مختلف گراؤنڈز موجود ہیں جس کے بنیاد پر بینچ کا تبادلہ کردیا گیا، ٹربیونل جج نے ٹرائل ٹھیک نہیں کی، ان پر جانبداری کا الزام تھا۔
چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن پر برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گراؤنڈز پوچھے ہیں آپ جج پر تعصب کا الزام لگا رہے ہیں، خدا کا نام لیں، قانون کو قانون ہی رہنے دیں، یہ جو چیز آپ بنارہے ہیں اس نے کبھی نہیں رہنا، ٹرائل میں کوئی مسلہ تھا تو ہائی کورٹ کو آگاہ کرتے یا سپریم کورٹ چلے جاتے۔
چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹریبونل میں ہائیکورٹ کا یک معزز حاضر سروس جج تھا، اگر آپ نے باہر سے کرنا ہے تو پھر عدالت کو گراؤنڈ بھی بتانے ہونگے،گراؤنڈز فراہم نہ کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قائم مقام صدر کس قانون کے تحت آرڈیننس جاری کر سکتے ہیں؟ریکارڈ کس قانون کے تحت منگوایا، اس کا اپکو جواب دینا ہوگا، آئینی باڈی کی وجہ سے عزت و احترام کیا دو دن کا نوٹس کیا، مگر آپ کو راس نہ آیا، ٹریبونل سے متعلق نوٹیفکیشن کسی کے پاس نہیں تو میڈیا کے پاس کہاں سے آیا؟
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ٹریبونلز آپ نے بنائے ہیں ایک بہاولپور اور ایک راولپنڈی کے لیے،جن گراؤنڈز کے اوپر اپ نے تبدیلی کی ہے اس پر عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا۔اس طرح کی چیزوں سے آپ نیا پریسیڈنٹ بنانے جارہے ہیں۔
بعد ازاں ہائیکورٹ نے الیکشن ٹریبونل جج کی تبادلے سے متعلق ریکارڈ دو بجے تک طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت میں دو بجے تک وقفہ کردیا۔


















