
ویب ڈیسک: ٹیسلا نے اپنے جدید ماڈلز سائبرکیب اور سیمی الیکٹرک ٹرک کے لیے چین سے پرزہ جات کی درآمدی منصوبہ بندی کو مؤخر کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی مصنوعات پر بڑھتی ہوئی درآمدی ڈیوٹی کے تناظر میں کیا گیا، جس نے تجارتی کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہناہے کہ ٹیسلا نے ابتدائی طور پر 34 فیصد ٹیرف برداشت کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن ٹیرف 145 فیصد تک پہنچنے کے بعد کمپنی نے شپمنٹ کا عمل روک دیا۔ یہ اقدام ٹیسلا کی ان دو جدید گاڑیوں کی ٹرائل پروڈکشن پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جن کی ماس پروڈکشن 2026 سے شروع ہونے کا منصوبہ تھا۔
سائبرکیب کی تیاری ٹیکساس جبکہ سیمی ٹرک کی پیداوار نیواڈا میں متوقع تھی۔ کمپنی چین پر انحصار کم کرنے کے لیے گزشتہ دو برسوں سے شمالی امریکا سے زیادہ پرزہ جات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ آٹو انڈسٹری کو درآمدی ٹیرف میں نرمی کے لیے کچھ وقت دیا جائے گا تاکہ وہ امریکا میں پیداواری یونٹ قائم کر سکیں۔ دوسری جانب، چین نے بھی امریکی مصنوعات پر 125 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس کے بعد ٹیسلا نے ماڈل ایس اور ماڈل ایکس کے نئے آرڈرز لینا بند کر دیے ہیں۔
یہ پیشرفت ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح تجارتی پالیسیز، جن کا مقصد مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے، خود امریکی کمپنیوں کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
Source link


















