
ویب ڈیسک: 5 دسمبر 2025 کو بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں براہمداغ بگٹی گروپ کے سینئر کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی اور 100 سے زائد سابق شدت پسندوں نے اپنے ہتھیاروں سمیت پاکستان کے ساتھ وفاداری کا عہد کیا۔
انہوں نے اس عہد کی توثیق پاکستان ہاؤس، سوئی میں میر آفتاب بگٹی کی موجودگی میں کی۔ یہ اقدام ڈیرہ بگٹی میں امن، استحکام اور خوشحالی کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔
ڈیرہ بگٹی میں اسٹرٹیجک تبدیلی
چاکرانی قبیلہ ڈیرہ بگٹی کی اہم ترین قبائل میں شمار ہوتا ہے۔ ان کا ریاست پاکستان کے ساتھ آنادشمنوں کے لیے ایک بڑا نفسیاتی اور آپریشنل setback ہے۔ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کی گیس کی تاریخی اہمیت ہے، ان علاقوں میں امن کی بحالی نہ صرف توانائی کی حفاظت بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط کرے گی۔ اس اجتماعی سرنڈر کے ذریعے عوام نے ریاست کے خلاف چلائے گئےجھوٹے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی کے لوگ پاکستان کے ساتھ اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ حقیقی عزت، تحفظ اور ترقی صرف پاکستان کے ساتھ ہے۔
دشمن قوتوں کے لیے ایک پیغام
100 سے زائد گمراہ افراد کا واپس آنا ایک واضح پیغام ہے کہ بھارت کی سازشیں ناکام ہو چکی ہیں اور بلوچستان کے لوگ پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایندھن نہیں بنیں گے۔ یہ سرنڈر پاکستان کی پچھلی کامیاب مصالحتوں کی تسلسل ہے جیسے کہ سردار سرفراز بنگولزئی اور گلزار امام شمبے کی مثالیں، جنہوں نے تشدد کو ترک کیا اور بیرونی طاقتوں کے اثرات کو بے نقاب کیا۔
پاکستان کی ریاستی پالیسی کی اہمیت
پاکستان کی حکومت نے ہمیشہ ہر ایسے فرد کے ساتھ مصالحت کی ہے جو دہشت گردی سے باز آنا چاہتا ہو۔ حکومت کا پیغام ہے کہ جو واپس آئیں گے، انہیں عزت ملے گی، جو تشدد پر قائم رہیں گے، وہ خود کو الگ کر لیں گے۔
حکومت کی پالیسی: سماجی بہتری اور ملازمت کے مواقع
بلوچستان حکومت کو چاکرانی قبیلے کے لیے دوبارہ انضمام کے پیکج کی تیاری کرنی ہے، جس میں روزگار کے مواقع، جدید تعلیم، صحت کی سہولتیں اور مہارتوں کی تربیت شامل ہو۔
امید اور خوشحالی کا پیغام
چاکرانی قبیلے کا واپس آنا ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے ہر گھر کے لیے ایک امید کی کرن ہے۔ انہوں نے خوف کی بجائے امن، استحصال کی بجائے عزت، اور تباہی کی بجائے خوشحالی کا راستہ منتخب کیا۔
واضح رہے کہ جو لوگ پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں، انہیں بیرونی مفادات کے پیچھے چلنے والے افراد نے گمراہ کیا ہے۔ ان کے خاندان ان کا انتظار کر رہے ہیں، اور ان کے بچوں کو امن، تعلیم اور موقع کی ضرورت ہے، نہ کہ تشدد اور غیر یقینی کا مستقبل۔


















