نامور مزاح نگار افسانہ نگار اور شاعر پطرس بخاری کو دنیا سے رخصت ہوئے 67 برس بیت گئے

نامور مزاح نگار افسانہ نگار اور شاعر پطرس بخاری کو دنیا سے رخصت ہوئے 67 برس بیت گئے



نامور مزاح نگار افسانہ نگار اور شاعر پطرس بخاری کو دنیا سے رخصت ہوئے 67 برس بیت گئے

لاہور : آج نامور مزاح نگار، افسانہ نگار اور شاعر پطرس بخاری کو دنیا سے رخصت ہوئے 67 برس بیت گئے۔ پطرس بخاری نہ صرف ایک عظیم ادیب اور شاعر تھے، بلکہ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل، ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے طور پر بھی اپنے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے۔

پطرس بخاری یکم اکتوبر 1898ء کو پشاور میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ کالج لاہور سے حاصل کی، اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ کا سفر کیا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے عمانویل کالج سے انگریزی ادب میں اول درجے کی سند حاصل کرنے کے بعد ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔

پطرس بخاری نے اپنے کیریئر کا آغاز سول اینڈ ملٹری گزٹ سے کیا، جہاں انہوں نے لکھنا شروع کیا۔ 1947ء میں گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل کے طور پر ان کی تقرری ہوئی اور اس عہدے پر وہ کئی برس تک رہیں۔ ان کی قیادت میں کالج میں تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیاں زور و شور سے جاری رہیں۔

پطرس بخاری کی سب سے اہم کامیابیاں ریڈیو پاکستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ جنوبی ایشیا میں ریڈیو کے باقاعدہ قیام کے دوران انہوں نے اپنی انتظامی اور فنکارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس ادارے کو ایک نئی جِلا بخشی۔ 1949ء میں انہیں اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مندوب مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے مفادات کی بھرپور نمائندگی کی۔

پطرس بخاری کا کمال ان کی مزاح نگاری میں بھی تھا۔ ان کی تحریریں نہ صرف ہنسی مذاق سے بھرپور تھیں بلکہ گہری معنوں میں بھی چھپی ہوتی تھیں۔ ان کا مزاحی انداز اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

حکومت پاکستان نے پطرس بخاری کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2003ء میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا۔ پطرس بخاری نے 5 دسمبر 1958ء کو نیویارک میں وفات پائی، لیکن ان کی ادبی اور علمی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

آج ان کی برسی پر ہم انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی گرانقدر خدمات کو یاد کرتے ہیں جو انہوں نے نہ صرف ادب کے میدان میں، بلکہ تعلیمی، ثقافتی اور بین الاقوامی تعلقات میں بھی سرانجام دیں۔ پطرس بخاری کی شخصیت ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ایک فرد اپنے علم، فن اور محنت سے اپنی قوم اور دنیا پر اثر ڈال سکتا ہے۔





Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *