
(ویب ڈیسک ) لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے کائٹ فلائنگ آرڈیننس پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کردی گئی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں پتنگ بازی سے متعلق آرڈیننس کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی ۔
درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے۔دوران سماعت پنجاب حکومت کی جانب سےاسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل انوار حسین پیش ہوئے ۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ چائنہ جاپان میں ڈور نہیں بنتی لوگ پیچے نہیں لگاتے، اس پر عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ سیفٹی کو ریگولیٹ کیسے کریں گے؟،درخواست گزار کا موقف صرف یہ ہے کہ سیفٹی بہت ضروری ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ہمیں پوچھ کر بتائیں کہ ریگولیٹ کیسے کریں گے؟،بسنت منانے کی اتنی جلدی کیوں ہےآرڈنینس جاری کرنے کی نوبت کیوں آئی؟ درخواست گزار کا یہ موقف ہے۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اسمبلی سیشن کے دوران آرڈیننس نہیں آسکتا ۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ سیفٹی کا ذمہ دار کون ہے ؟۔
سرکاری وکیل نے جواب جمع کروانے کے لیے مہلت مانگ لی ۔
بعد ازاں عدالت نے کائٹ فلائنگ آرڈیننس پر فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مسترد کردی۔ عدالت نے سرکاری وکیل کو 22 دسمبر کو ہدایت لیکر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔
جسٹس ملک اویس خالد لوگوں کی جانوں کی سیفٹی بہت ضروری ہے، پتنگ بازی چائنہ میں ڈھائی ہزار سال پہلے شروع ہوئی ، پوری دنیا میں کائٹ فلائنگ ہوتی ہے مگر سیفٹی بہت ضروری ہے۔


















