عالمی عدالت انصاف کا اسرائیل کو رفح میں آپریشن فوری روکنے کا حکم -اردو نیوز اپڈیٹ

عالمی عدالت انصاف کا اسرائیل کو رفح میں آپریشن فوری روکنے کا حکم -اردو نیوز اپڈیٹ



عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو رفح میں آپریشن فوری روکنے کا حکم دیتے ہوئے غزہ میں نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کی اجازت دے دی۔

نیدرلینڈز کے دارالحکومت ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں دنیا کے 14 مختلف ملکوں کے ججوں کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا ایک ایڈہاک جج بھی بطور فریق موجود ہے۔

دوران سماعت عالمی عدالت انصاف کے صدر نواف سلام نے جنوبی افریقا کی جانب سے رفح میں اسرائیلی فوجی آپریشن رکوانے کی درخواست پر فیصلہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ جینوسائیڈ کنونشن کے مندرجات کے مطابق اسرائیل فوری طور پر رفح میں فوجی آپریشن روک دے اور کوئی بھی ایسا آپریشن بھی روک دے جس سے غزہ میں رہنے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہو۔

عالمی عدالت نے حملے روکنے اور تحقیقات کا فیصلہ 13-2 کی اکثریت سے سناتے ہوئے حکم دیا کہ غزہ میں نسل کشی کی تحقیقات کرائی جائیں اور یہ تحقیقات اقوام متحدہ کرے، اسرائیل فیکٹ فائنڈنگ مشن کو تحقیق کی اجازت دے، ایک ماہ میں اسرائیل رپورٹ پیش کرے۔

عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے کہا کہ اسرائیل کو جب 28مارچ کو غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد غزہ کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔

نواف سلام نے کہا کہ عدالت کی جانب سے مارچ میں عارضی اقدامات کا جو حکم دیا گیا تھا لیکن وہ اب صورتحال کرنے سے قاصر ہیں۔

عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے کہا کہ اسرائیل کو جب 28مارچ کو غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد غزہ کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔

نواف سلام نے کہا کہ عدالت کی جانب سے مارچ میں عارضی اقدامات کا جو حکم دیا گیا تھا وہ اب صورتحال کرنے سے قاصر ہیں۔

جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر غزہ میں قتل عام اور نسل کشی(جینوسائیڈ) کا الزام عائد کرتے ہوئے درخواست کی تھی کہ اسرائیل کو جنوبی غزہ کے شہر رفح میں اپنی جارحیت روکنے اور وہاں سے نکلنے کا حکم دیا جائے۔

سماعت کے موقع پر عدالت کے باہر فلسطینیوں کے حامی مظاہرین جھنڈے اور بینرز لیے موجود تھے اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ کررہے تھے۔

اسرائیل نے اب تک اس مقدمے میں نسل کشی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے اور اپنے جارحانہ اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں کارروائیاں اپنے دفاع میں کیں اور 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کرنے والے حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا۔

جمعہ کو فیصلے کے موقع پر اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ زمین پر کوئی طاقت اسرائیل کو اپنے شہریوں کی حفاظت اور غزہ میں حماس کا پیچھا کرنے سے نہیں روک سکتی۔

اسرائیل نے رواں ماہ جنوبی شہر رفح پر حملے کا آغاز کیا تھا جس کے بعد وہاں موجود 10 لاکھ سے زائد لوگ شہر سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

29 دسمبر 2023 کو جمع کرائی گئی اپنی درخواست میں جنوبی افریقا نے اسرائیل پر سنہ 1948 کے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نسل کشی کا دعویٰ کیا ہے جس میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل دونوں فریق ہیں۔ معاہدے کے فریق ممالک کو جرم کو روکنے کا اجتماعی حق حاصل ہے۔

اپنی درخواست میں جنوبی افریقہ نے اسرائیلی جارحیت کی جو نشاندہی کی ان میں بڑی تعداد میں عام شہریوں خصوصاً بچوں کا قتل، فلسطینیوں کی اجتماعی بے دخلی، انہیں بے گھر کرنا، ان کے گھر تباہ کرنا، اسرائیلی حکام کے اشتعال انگیز بیانات جن میں فلسطینیوں کو انسانوں سے کم سمجھا جانا بھی شامل ہیں۔ جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام عوامل نسل کشی کے مترادف ہیں اور اسرائیل کی نیت ظاہر کرتے ہیں۔

درخواست کی سماعت کے دوران روز جنوبی افریقا کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ رفح میں فوجی آپریشن غزہ میں جاری فلسطینیوں کی نسل کشی کا آخری مرحلہ ہے، دفاع کا حق نسل کشی کا جواز فراہم نہیں کرتا، فلسطینیوں کو بچانے کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت ہے۔

جنوبی افریقا کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے، اسرائیل کے حملے رُکوائے جائیں۔



Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *