
بھوپال: بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان اور ان کے خاندان کو بھوپال میں واقع اپنی موروثی زمین کے حوالے سے ایک طویل اور پیچیدہ قانونی جنگ میں بالآخر بڑی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔
تقریباً پچیس سال تک جاری رہنے والی اس عدالتی لڑائی کا اختتام پٹودی خاندان کے حق میں فیصلے پر ہوا، جس کے بعد یہ پرانا تنازع اپنے انجام کو پہنچا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جس جائیداد پر یہ مقدمہ چل رہا تھا، اس کی مجموعی مالیت تقریباً سولہ ہزار بھارتی کروڑ روپے، یعنی ایک اعشاریہ چھ ارب ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔ یہ زمین مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے نیاپورہ علاقے میں واقع ہے اور اس کا کل رقبہ سولہ اعشاریہ باسٹھ ایکڑ ہے۔
مدھیہ پردیش کی ضلعی عدالت نے اپنے فیصلے میں پٹودی خاندان کی اس اراضی پر ملکیت کو بحال کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ زمین قانونی طور پر سیف علی خان، ان کی والدہ اور سینئر اداکارہ شرمیلا ٹیگور اور ان کی بہنوں کی ہی ملکیت ہے۔ یہ فیصلہ پٹودی خاندان کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
یہ تنازعہ پہلی بار 1998 میں سامنے آیا تھا، جب عقیل احمد اور کچھ دیگر افراد نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ زمین پٹودی خاندان کی نہیں بلکہ ان کے آبا و اجداد کی ملکیت ہے۔ مدعیان کا کہنا تھا کہ سابق ریاست بھوپال کے نواب حمید اللہ خان نے 1936 میں یہ جائیداد ان کے بزرگوں کو تحفے کے طور پر دی تھی، جس کی بنیاد پر وہ خود کو اس کے جائز مالک سمجھتے ہیں۔
تاہم طویل عدالتی کارروائی کے دوران مدعیان اپنے دعوے کے حق میں کوئی مضبوط یا قابلِ اعتبار دستاویزی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ عدالت نے کیس کے تمام ریکارڈ اور دلائل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ زمین کی منتقلی یا تحفے سے متعلق کوئی مستند شواہد موجود نہیں ہیں۔ شواہد کی کمی اور قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر عدالت نے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد اب نیاپورہ بھوپال میں واقع سولہ اعشاریہ باسٹھ ایکڑ زمین پر پٹودی خاندان کی ملکیت ایک بار پھر قانونی طور پر تسلیم کر لی گئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی یہ طویل اور تاریخی قانونی تنازع ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔


















