خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال 25-2024 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم بجٹ پیش کررہے ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار کسی صوبے کا بجٹ وفاقی بجٹ سے پہلے پیش کیا جا رہا ہے۔
بجٹ سے متعلق دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال کیلئے صوبے کا بجٹ 1754 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ ذرائع کےمطابق بجٹ میں نئے ٹیکس کی بجائے پہلے سے موجود ٹیکسوں میں رد و بدل کا امکان ہے۔
اس سے قبل کابینہ کا خصوصی بجٹ اجلاس وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں وزرا، معاونین خصوصی، مشیر، چیف سیکرٹری ، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز سمیت دیگر افسران شریک ہوئے۔
کابینہ سے سال 2025-24 بجٹ کی منظوری لی گئی، سالانہ ترقیاتی پروگرام اور فنانس بل کی منظوری بھی کابینہ سے لی گئی۔
مشیر خزانہ مزمل اسلم
ایک بیان میں مزمل اسلم نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے بجٹ کو ”اپنا بجٹ 2024-25“ کا نام دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے پورے بجٹ کے عمل کی خود نگرانی کی، نئے بجٹ کیلئے تقریباً 1900 منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں 288 نئے منصوبے شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ”اپنا بجٹ 2024-25“ کیلئے 100 سے زائد اجلاسوں کی خود صدارت کی، اور بجٹ کی بروقت تیاری کا کریڈٹ صوبے کی تمام مشینری کو جاتا ہے۔
بجٹ کی دستاویز ’آج نیوز‘ نے حاصل کرلیں
مختلف محکموں کے لیے مختص بجٹ کی دستاویز ’آج نیوز‘ نے حاصل کرلیں جس کے مطابق محکمہ پولیس کے لیے 3 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد بجٹ مختص کیا گیا جبکہ اسلحہ کی خریداری کی مد میں 37 کروڑ مختص کرنے کی تجویز بجٹ میں شامل ہے۔
محکمہ جیل خانہ جات کےلیے 25 کروڑ روپے
دستاویز کے مطابق پولیس وردی کےلیے ایک کروڑ روپے سے زائد کا فنڈ مختص کرنے اور محکمہ جیل خانہ جات کےلیے 25 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
بجٹ دستاویز میں محکمہ ہاؤسنگ کےلیے 19 کروڑ روپے، اسپورٹس اور کلچرڈیپارٹمنٹ کےلیے72 کروڑ روپے اور محکمہ سیاحت کےلیے ایک ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز شامل ہیں۔
محکمہ صحت و تعلیم
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں محکمہ صحت کے لئے 70 ارب روپے سے زائد رکھے جاسکتے ہیں، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 250 ارب روپے مختص کرنے اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کا بجٹ 22 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اے ڈی پی کیلئے 200 ارب روپے
اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ بجٹ میں اے ڈی پی کیلئے 200 ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ نئے ٹیکس لگانے کے بجائے موجودہ ٹیکسوں میں رد و بدل کیا گیا ہے۔
بجٹ میں ملاکنڈ ڈویژن اور انضمام شدہ اضلاع میں ٹیکس لگانے کا منصوبہ شامل نہیں ہے۔
نئے بجٹ میں تمباکو پر صوبائی ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور صحت کارڈ کیلئے 28 ارب روپے سے زائد کا فنڈ مختص کیا گیا ہے۔
بی آر ٹی کے لیے ڈھائی ارب روپے تک سبسڈی فنڈ مختص کی گئی ہے اور کرایوں میں فی اسٹاپ 5 سے 10 روپے اضافہ کی تجویز دی گئی ہے۔
مئے بجٹ میں اراضی کے انتقالات پر مختلف ٹیکسز 6 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد پر لانے کی تجویز ہے۔
بجٹ کے مطابق صوبائی حکومت معدنیات کے لیے کمپنی بنائے گی، معدنیات کی 30 فیصد آمدنی صوبے کو ملے گی۔
نئے منصوبوں کے بجائے 90 فیصد فنڈ جاری منصوبوں کے لیے مختص کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ نوجوانوں کے لئے آسان شرائط پر قرضوں کے لئے 10 ارب روپے فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کو آسان شرائط پر بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔
بجٹ میں ڈھائی سال بعد مقامی حکومت کو ترقیاتی فنڈ کا 20 فیصد مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 3 سالوں سے خالی آسامیوں کو پُر کرنے کے بجائے ختم کرنے کی بھی تجویز زیرِ غور ہے۔
چشمہ رائٹ بنک کینال منصوبے کے لیے 2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔


















