ایران: مہنگائی کے خلاف مظاہرین کا سرکاری عمارت پر حملہ، سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

ایران: مہنگائی کے خلاف مظاہرین کا سرکاری عمارت پر حملہ، سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

ایران: مہنگائی کے خلاف مظاہرین کا سرکاری عمارت پر حملہ، سیکیورٹی اہلکار جاں بحق

ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے پانچویں روز میں داخل ہو گئے ہیں. جنوبی ایران میں مظاہرین نے ایک سرکاری عمارت پر حملہ کیا جبکہ مغربی صوبے لورستان میں نیم فوجی بسیج فورس کا ایک رضاکار جاں بحق جبکہ 13 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

ایران میں اتوار کے روز مہنگائی، معاشی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایران مخالف گروہ سے وابستہ سات افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں سے پانچ امریکا میں قائم بادشاہت پسند نیٹ ورک سے رابطے میں تھے جبکہ دو افراد یورپ میں سرگرم گروہوں سے منسلک تھے۔

سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ایک اور کارروائی میں 100 اسمگل شدہ پستول برآمد کیے گئے ہیں جو سرحد پار سے آنے والے سامان کی آڑ میں ملک میں داخل کی گئی تھیں۔ اسلحہ ملک میں پہنچانے میں ملوث افراد کی بھی نشاندہی کر کے انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان عناصر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو پُرتشدد رُخ دیا جائے اور بدامنی کو ہوا دی جائے۔

عرب نیوز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے بدھ کے روز جنوبی صوبے فارس کے شہر فاسا میں مقامی گورنری کی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت مداخلت کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق اس ہنگامہ آرائی کی قیادت کرنے والی 28 سالہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق مظاہروں کے دوران مغربی صوبے لورستان میں انقلابی گارڈز کی نیم فوجی بسیج فورس سے تعلق رکھنے والا 21 سالہ رضاکار بھی جاں بحق ہوا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس فورس کے قریب سمجھے جانے والے خبر رساں ادارے اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک کے مطابق لورستان کے نائب گورنر سعید پورعلی نے مظاہرین کو رضاکار کی ہلاکت کا ذمہ دار ٹھرایا ہے۔

سعید پور علی کا کہنا ہے کہ واقعے میں بسیج فورس کے مزید 13 ارکان اور پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے معاشی دباؤ، مہنگائی اور کرنسی میں اتار چڑھاؤ کا نتیجہ ہیں اور ان مطالبات کو دانش مندی سے سنا جانا چاہیے، تاہم عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے مطالبات کو مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک خطاب میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں احتجاج کے بجائے یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت معاشی صورت حال بہتر بنانے اور شہریوں کی قوتِ خرید میں اضافے کے لیے آئندہ چند گھنٹوں کے اندر نئے فیصلے کر سکتی ہے۔

ایرانی صدر نے حالیہ مظاہروں کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت دشمن کی زیادہ تر امیدیں ہمیں معاشی دباؤ کے ذریعے گرانے پر مرکوز ہیں۔ کسی قوم کو بموں، لڑاکا طیاروں یا میزائلوں سے تابع نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا دشمن اگر ہمیں واقعی شکست دینا چاہتا ہے تو اسے میدان میں آ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ اور اگر ہم ثابت قدم رہے اور مل کر کام کرتے رہے تو ان کے لیے ایران کو جھکانا نا ممکن ہو جائے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مظاہرین سے مذاکرات کا اشارہ دیا تھا تاہم وہ یہ اعتراف بھی کر چکے ہیں کہ ایرانی کرنسی کی تیزی سے گراوٹ روکنے کے لیے فوری حل محدود ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کی معیشت کئی برسوں سے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہے جبکہ حالیہ مہینوں میں ایرانی کرنسی کی قدر میں مزید کمی آئی ہے۔ اِس وقت ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 14 لاکھ ایرانی ریال تک پہنچ چکی ہے۔

گزشتہ دنوں ایرانی کرنسی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ اور تیزی کے باعث مرکزی بینک کے گورنر نے استعفیٰ دے دیا تھا۔‏ جس کے بعد ‏صدر مسعود پیزشکیان نے عبد الناصر ہیمتی کو ایران کے مرکزی بینک کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔‏

‏ایرانی صدر نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ نئے گورنر حکومت کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ غیر ملکی زرِ مبادلہ، بینکنگ شعبے کے عدم توازن کو دور کرنے اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *