‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ’ بدنظمی کی نذر پہلے ہی روز ہنگامہ آرائی اور شدید احتجاج

‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ’ بدنظمی کی نذر پہلے ہی روز ہنگامہ آرائی اور شدید احتجاج



‘انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ’ بدنظمی کی نذر پہلے ہی روز ہنگامہ آرائی اور شدید احتجاج

نئی دہلی : بھارت کے دارالحکومت دہلی میں منعقد ہونے والی “انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ” کا آغاز توقعات کے برعکس شدید بدنظمی، سکیورٹی تنازعات اور شرکا کی مایوسی کے ساتھ ہوا۔ عالمی ٹیک ماہرین کی موجودگی کے باوجود انتظامیہ کے بڑے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور تقریب کا پہلا دن تنقید کی زد میں رہا۔
رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم کے دورے سے قبل سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث داخلی راستے کئی گھنٹوں تک بند رہے، جس کی وجہ سے نمائش کنندگان  اپنے ہی بوتھس تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں، جس پر اسٹارٹ اپ بانیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے۔
سمٹ کے دوران بجلی کی بندش اور ہال میں ناقص وینٹیلیشن   نے شرکا کا جینا محال کر دیا۔ سوشل میڈیا پر ناقص انتظامات کے خلاف صارفین کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ شرکا نے درج ذیل شکایت کے انبار لگا دیے۔     پینے کے پانی کی عدم دستیابی اور بے قابو ہجوم پر قابو پانے میں ناکامی،تقریب کے دوران چوری کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، جس پر منتظمین کوئی تسلی بخش وضاحت دینے سے قاصر رہے۔
دہلی کی شدید فضائی آلودگی اور کلومیٹر طویل ٹریفک جام نے مندوبین اور شرکا کو شدید مشکلات میں ڈال دیا۔ آلودہ فضا میں کانفرنس کے انعقاد سے صحت سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ ٹریفک جام کی وجہ سے کئی اہم سیشنز میں شرکت کرنے والے افراد وقت پر نہ پہنچ سکے۔
انڈیا اے آئی ویک، جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھارت کی برتری ثابت کرنا تھا، پہلے ہی دن انتظامی نااہلی کی وجہ سے تنازعات کی لپیٹ میں آگیا۔ ماہرین کے مطابق عملی انتظام کی کمزوری نے عالمی سطح پر ایونٹ کے وقار کو ٹھیس پہنچائی ہے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *