
لاہور : وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور اب افغان شہری پاکستان کے مہمان نہیں رہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ افغان شہری خود عزت کے ساتھ واپس جائیں، بصورتِ دیگر انہیں ملک بدر کیا جائے گا، اور واپسی پر دوبارہ داخلے کی کوشش پر گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محسن نقوی کے مطابق حالیہ دنوں میں ایف سی اہلکاروں اور اسلام آباد کچہری پر حملہ کرنے والے مبینہ طور پر افغان شہری تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں ہونے والی بیشتر دہشت گردی کے واقعات میں افغان عناصر ملوث پائے جا رہے ہیں، اس لیے غیر قانونی مہاجرین کا انخلا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کے فیصلوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا کیونکہ “ہم مزید دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے کون ہے، اس کے واضح شواہد موجود ہیں، اور افغان طالبان حکومت کو چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کو لگام دے۔
محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر 90 فیصد غلط خبریں چلنے کا الزام لگاتے ہوئے واضح کیا کہ جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل میڈیا ایک نظام کے تحت چلتا ہے اور غلط خبر نشر کرنے پر پیمرا کارروائی کرتا ہے، اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی ضابطہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کی تذلیل برداشت نہیں کی جائے گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ وزیر داخلہ نے بیرون ملک موجود افراد کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد واپس لائے جائیں گے اور اپنی باتوں کا جواب دینا ہوگا۔
محسن نقوی نے اس بات پر زور دیا کہ فیک نیوز پھیلانے والوں اور عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر کے خلاف جامع کارروائی کی جائے گی۔


















