اردو ادب کے بے مثال شاعر جون ایلیا کی 94ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

اردو ادب کے بے مثال شاعر جون ایلیا کی 94ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے



اردو ادب کے بے مثال شاعر جون ایلیا کی 94ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے

لاہور : آج اردو ادب کے بے مثال شاعر، جون ایلیا کی 94ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ 14 دسمبر 1931 کو بھارت کے شہر امروہہ میں پیدا ہونے والے جون ایلیا نے اپنی شاعری کے ذریعے اردو ادب کو ایک نیا رنگ دیا۔ اُن کا اصل نام سید حسین سبط اصغر نقوی تھا، لیکن دنیا انہیں “جون ایلیا” کے نام سے جانتی ہے۔

جون ایلیا کا شاعری میں ایک منفرد اسلوب تھا، جس میں وہ محبت، غم، ہجر اور وصال کی پیچیدہ کیفیتوں کو ایک نئے انداز میں بیان کرتے تھے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ 1991 میں شائع ہوا، جسے اردو ادب میں ایک سنگ میل قرار دیا گیا۔ اُن کے دیگر مشہور شعری مجموعوں میں “یعنی”، “گمان”، “لیکن” اور “گویا” شامل ہیں۔

جون ایلیا کی شاعری کی سب سے بڑی خصوصیت اُن کا بے باک اور کھلا انداز تھا، جس میں سماجی روایات اور رائج عقائد کے خلاف کھلی بغاوت نظر آتی ہے۔ ان کی نثر اور اداریے بھی اردو ادب میں بے حد مقبول ہیں، اور آج بھی اُن کے خیالات اور نظریات پر بحث کی جاتی ہے۔

جون ایلیا نہ صرف ایک شاعر تھے، بلکہ ایک فلاسفر اور تخلیق کار بھی تھے۔ ان کی تخلیقات میں ایک خاص قسم کی گہری مایوسی، انسانی احساسات کی پیچیدگیاں اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کا عکس نظر آتا ہے، جو ان کی شاعری کو آج بھی زندہ اور متعلقہ بناتا ہے۔

جون ایلیا کا کہنا تھا، “میں وہ شاعر ہوں جس کی شاعری میں کسی بھی قسم کی جھجک یا منافقت نہیں ہے، بلکہ میں نے ہمیشہ اپنے احساسات کو کھلے دل سے بیان کیا ہے۔” ان کی شاعری میں موجود سچائی اور بے باکی آج بھی نئے اور پرانے پڑھنے والوں کے دلوں کو چھوتی ہے۔

جون ایلیا کی تخلیقات کا اثر اردو ادب میں ہمیشہ محسوس کیا جائے گا اور ان کا یہ منفرد اسلوب ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔





Source link

Related News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *