
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن غضب للحق میں اب تک مارے جانے والے افغان طالبان اہلکاروں کی مزید تفصیلات جاری کردیں، جس کے مطابق اب تک 415 افغان اہلکار ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
اتوار کے روز وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر آپریشن غضب للحق کے دوران افغان طالبان کے خلاف کی جانے والی جوابی کارروائیوں کی تفصیلات جاری کیں۔
عطا تارڑ کے مطابق آپریشن کے دوران افغان طالبان کو شدید نقصانات پہنچائے گئے، اب تک آپریشن میں 415 افغان طالبان اہلکار ہلاک مارے جا چکے ہیں جب کہ زخمی ہونے والے افغان طالبان اہلکاروں کی تعداد 580 سے زائد ہے۔
انہوں نے اپنے بیان مین بتایا کہ افغان طالبان کی 189 چیک پوسٹیں تباہ کر دی گئی ہیں اور پاکستان سیکیورٹی فورسز نے 31 افغان پوسٹوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔
وزیراطلاعات نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کے 185 ٹینک، اسلحہ بردارگاڑیاں اور آرٹلری گنز تباہ بھی اس آپریشن میں تباہ کی گئی ہیں جب کہ افغانستان میں 46 مقامات پر پاکستان کی مؤثر فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔
گزشتہ روز عطا تارڑ نے بتایا تھا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت افغان طالبان رجیم کے 352 کارندے ہلاک اور 535 سے زائد زخمی ہیں، اب تک 130 پوسٹیں تباہ اور 26 پر قبضہ کیا گیا، 171 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کر دی گئیں، 41 مقامات پر فضائی کارروائیوں میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ جمعرات 26 فروری کی رات پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔
پاک فوج نے افغانستان کی حدود کے اندر مختلف مقامات پر جوابی کارروائیاں کیں اورکابل، قندھار اور پکتیا سمیت دیگر مقامات پر موجود عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی چیک پوسٹیں تباہ کیں۔


















