
ویب ڈیسک: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، وزارت آبی وسائل کی نگرانی میں ملک کے بڑے پانی کے منصوبوں کی تکمیل میں شدید تاخیر دیکھنے کو ملی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پانی سے متعلق سات بڑے منصوبوں میں سے صرف ایک منصوبہ 50 فیصد تک مکمل ہو سکا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں پانی کے ذخائر کم ترین ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم پر اب تک صرف 15 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے، جب کہ داسو ڈیم کی تعمیر 21 فیصد تک مکمل ہوئی ہے۔ مہمند ڈیم پر 33 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
کرم تنگی ڈیم کا آغاز 2016 میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے ہاتھوں ہوا تھا، جس پر اب تک 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 1000 میٹر کیوبک ہے، جو عالمی معیار سے کم ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے وزارت آبی وسائل کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت حیران کن ہے کہ ان منصوبوں میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہو سکا۔


















