
اسلام آباد : پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض کے پروگرام کی ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ کل پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط کی منظوری دینے پر غور کرے گا۔ یہ قسط پاکستان کو آئی ایم ایف کے معاہدے کے تحت موصول ہوگی، جس میں موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اضافی 20 کروڑ ڈالر بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 14 اکتوبر کو ہوا تھا اور پاکستان نے قرض کی قسط کے لئے تمام ضروری شرائط پوری کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کی طرف سے یہ فیصلہ کرپشن اور گورننس کی صورت حال کے حوالے سے جاری کی گئی ڈایئگناسٹک رپورٹ کے پیش نظر لیا جائے گا، جو پاکستان نے کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو 1 ارب ڈالر قرض کے ساتھ ساتھ 20 کروڑ ڈالر کی موسمیاتی فنانسنگ فراہم کی جائے گی۔ اس رقم کا مقصد پاکستان کی موسمیاتی لچک کو بہتر بنانا اور گرین بجٹنگ کے عمل کو فروغ دینا ہے، تاکہ پاکستان موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے ایک مضبوط مالی اور اقتصادی بنیاد قائم کر سکے۔
آئی ایم ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر، بو لی نے پاکستان کے جاری اصلاحی عمل کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام پاکستان کے اقتصادی استحکام اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اہم ثابت ہو گا۔
پاکستان کی اصلاحات کی کامیابی کی ایک اور گواہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی دوحہ فورم میں شرکت ہے، جہاں انہوں نے ملک کی معاشی اصلاحات اور مستقبل کی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ عالمی سطح پر پاکستان کی اقتصادی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے یہ اقدامات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
آئی ایم ایف کی ویب سائٹ کے مطابق، پاکستان کو 8 دسمبر 2025 کو ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے جائزوں کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی مزید قسط کی منظوری دی جائے گی۔


















